سائنس کی گواہی
الرسالہ، جون ۱۹۹۰، صفحہ ۲۴
مزید یہ کہ محمد کے الہام کا زمانہ ۶۱۰ء سے لے کر ۶۳۲ء تک ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب کہ مشرق و مغرب میں ہر طرف علمی تاریک خیالی (scientific obscurantism) کا ذہن چھایا ہوا تھا۔ اس لحاظ سے یہ بھی ہونا چاہیے کہ اس تاریک علمی دور کے اثرات ان کی کتاب میں پائے جارہے ہوں ۔
مگر بعض تجربات کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ قرآن کے بیانات اور بائبل کے بیانات میں اگرچہ کئی باتیں مشترک ہیں مگر قرآن حیرت انگیز طور پر اس قسم کی باتوں کا ذکر کرتے ہوئے ان علمی غلطیوں کو حذف کر دیتا ہے جو موجودہ بائبل میں پائی جاتی ہیں۔ اب ان کا تجسس بڑھا۔ یہاں تک کہ قرآن کو براہ راست اس کی اپنی زبان میں سمجھنے کے لئے انہوں نے پچاس سال کی عمر میں عربی زبان سیکھنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد جب انہوں نے قرآن کو براہ راست پڑھا تو انہوں نے حیرت انگیز طور پر پایا کہ بائبل ایک طرف علمی غلطیوں سے بھری ہوئی ہے۔ مگر دوسری طرف قرآن کا حال یہ ہے کہ وہ علمی غلطیوں سے یکسر خالی ہے۔ اگر قرآن محمد کی کتاب ہو اور انہوں نے اس کو بائبل اور وقت کی معلومات کی مدد سے مرتب کیا ہو تو کیا وجہ ہے کہ قرآن میں وہ تمام علمی غلطیاں حذف ہیں جو بائبل میں یا محمد کے زمانہ میں پائی جارہی تھیں۔ مثلاً بائبل میں انسان کے ظہور کی جو تاریخ دی گئی ہے اس کے لحاظ سے ۱۹۸۱ کے حساب کے مطابق ، زمین پر انسان کا ظہور پہلی بار ۴۲۷۰۵ سال پہلے ہوا۔ مگر اس قسم کی بے معنی غلطیاں قرآن میں بالکل نہیں پائی جاتیں (صفحہ ۱۵)
بائبل میں کثرت سے علمی غلطیاں ہیں۔ وہ اتنی واضح ہیں کہ ان کا انکار ممکن نہیں۔ جین گوٹن (Jean Guitton) نے اس کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بائبل کی علمی غلطیاں انسانی غلطیاں ہیں، کیوں کہ اس وقت انسان ایک بچہ کی مانند تھا، اور اس بنا پر وہ علمی حقائق سے بے خبر تھا: The scientific errors in the Bible are the errors of mankind, for long ago man was like a child, as yet ignorant of science (p. 152). ایسی حالت میں محمد کے لئے کیسے ممکن ہواکہ وہ قرآن کو مرتب کرتے ہوئے بائبل کی یا اپنے زمانہ کی غلطیوں کو قرآن سے حذف کر دیں۔ وہ ایسی کتاب تیار کریں جس میں استثنائی طور پر کوئی بھی علمی غلطی موجود نہ ہو (۱۶۰) مصنف یہ کہتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ قرآن محمد کی کتاب نہیں وہ
‹ Previous page Next page › Contents of June 1990 All issues