سائنس کی گواہی
الرسالہ، جون ۱۹۹۰، صفحہ ۲۵
ایک ماورائے انسانی ذہن کی تخلیق ہے۔ علم کی تاریخ ہم کو اس نتیجہ تک پہنچاتی ہے کہ قرآن میں اس قسم کی آیتوں کی موجودگی کی کوئی انسانی توجیہہ ممکن نہیں :
The history of science leads us to conclude that there can be no human explanation for the existence of these verses in the Quran (p. 188). قرآن کا یہ استدلالى پہلو قرآن کی اس آیت کی تصدیق ہے جو چودہ سو سال پہلے قرآن میں شامل کی گئی تھی ـــــ ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے ، آفاق میں بھی اور خود لوگوں کے اندر بھی، یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔ اور کیا یہ بات کافی نہیں کہ تیرا رب ہر چیز پر گواہ ہے (حم السجدہ ۵۳)
جو لوگ قرآن کو خدا کی کتاب ماننے کے لئے اس کی سائنسی دلیل چاہتے ہیں ، ان کو ڈاکٹر ماریں بوکائی کی مذکورہ دونوں کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہئے ۔
قرآن فنی معنوں میں سائنس کی کتاب نہیں۔ مگر قرآن جن عقائد کو ماننے کی دعوت دیتا ہے، اس کے لئے وہ فطرت کی نشانیوں کو بطور دلیل پیش کرتا ہے۔ یہ فطرت کی نشانیاں کیا ہیں، یہ وہی نیچر ہے جس کا مطالعہ سائنس میں کیا جاتا ہے۔
نیچر قرآن کا موضوع بھی ہے اور سائنس کا موضوع بھی۔ البتہ دونوں میں یہ فرق ہے کہ قرآن میں فطرت کے بعض پہلوؤں کا ذکر بطور دلیل آیا ہے۔ جب کہ سائنس میں فطرت کا مطالعہ مستقل فن کی حیثیت سے کیا جاتا ہے۔ مگر قرآن میں جہاں کہیں بھی نیچر کا کوئی حوالہ ہے، وہ بعد کی سائنسی تحقیقات کے مطابق ہے۔ اس مطابقت کی کوئی بھی توجیہہ اس کے سوا نہیں کی جاسکتی کہ قرآن کو اس خدا کی کتاب مانا جائے جو تمام کھلی اور چھپی باتوں کو جانتا ہے، جس کا علم بیک وقت ماضی ، حال اور مستقبل کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ اسلام دور جدید کا خالق صفحات ۱۱۲ ۲۰ روپیہ
‹ Previous page Next page › Contents of June 1990 All issues