احیا قلب ، احیا حکومت
الرسالہ، جون ۱۹۹۰، صفحہ ۳۸
ہر آدمی کی ایک حد ہے۔ آدمی اگر اپنی حد پر رہے تو اس کو ہر جگہ کام کے مواقع ملتے ہیں۔ اور اگر وہ اپنی حد سے آگے بڑھ جائے تو اس کو ہر جگہ رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا، خواہ وہ کسی مسلم ملک میں ہو یا غیر مسلم ملک میں۔
عمان سے طرابلس کے لئے ار دن ایئر لائنز کی فلائٹ نمبر ۴۵ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ راستے میں جہاز کے اندر ایک فلسطینی نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے اپنا نام ناصر عبد الفتاح عامر بتایا۔ ان کی عمر تقریباً ۲۱ سال تھی۔ ان کا خاندان غزہ (فلسطین) میں رہتا ہے۔ فلسطین کے بارے میں انھوں نے بہت سی باتیں بتائیں۔ آخر میں میں نے پوچھا کہ فلسطین کے مستقبل کے بارے میں آپ کیا امید رکھتے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا : تحرير ارض فلسطين و ان ارى بلادى تنعم تحت حكم اسلامى (سرزمین فلسطین کی آزادی، اور یہ کہ میں اپنے ملک کو اسلامی حکومت کے تحت خوش حال ہوتا ہوا دیکھوں)، فلسطین کے مسلمانوں نے موجودہ زمانہ میں اپنا بہت کچھ کھو دیا ہے، مگر انھوں نے اپنا حوصلہ نہیں کھویا۔ اور حوصلہ بلاشبہ کسی قوم کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔
اس جہاز میں اردن ایئر لائنز کا انگریزی میگزین رائل ونگ (Royal Wings) کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہا تھا۔ اس میں ایک مضمون چھٹی حس (sixth sense) سے متعلق تھا۔ اس میں مختلف نمبر لکھے ہوئے تھے۔ اور ہر نمبر کو دیکھنے سے ایک متعین جواب نکلتا تھا۔ میں نے سرسری طور پر نمبر ۲ کو دیکھا۔ اس نمبر کے تحت حسب ذیل الفاظ لکھے ہوئے تھے :
You are blessed with a remarkable ability. Your powers are alert and working for you. Don't be afraid of your "sixth sense" but explore it. میں اس قسم کی چیزوں میں عقیدہ نہیں رکھتا۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس نوعیت کے مجھے کئی عجیب تجربے ہوئے ہیں۔ مثلاً مجھے یاد ہے کہ مدرسہ کی تعلیم کے زمانہ میں وہاں کے کتب خانہ میں مصر کا ایک عربی مجلہ المقتطف آتا تھا جس کو میں دل چسپی سے پڑھا کرتا تھا۔ ایک بار المقتطف میں اسی قسم کا ایک مضمون آیا۔ اس میں ایک طلسماتی لفظ ” "ابرا کا دابیسن کا تن “ کو پڑھ کر خاص انداز سے اپنے بارہ میں کوئی جو اب معلوم کیا جاتا تھا۔ اس زمانہ میں میرا امتحان قریب تھا۔ میں نے اسی کے بارہ میں معلوم کیا۔ جواب آیا : ستنجح نجاحاً كبيرا (تم ایک بڑی کامیابی حاصل کرو گے) عجیب بات ہے کہ
‹ Previous page Next page › Contents of June 1990 All issues