احیا قلب ، احیا حکومت
الرسالہ، جون ۱۹۹۰، صفحہ ۳۹
اس کے بعد امتحان ہوا تو میں پورے درجے میں اول آیا۔ اس وقت ہمارے درجے میں غالب ۲۴ طالب علم تھے۔
اردن ائیر لائنز کا عربی میگزین الأجنحة" کے نام سے نکلتا ہے۔ اس کے شمارہ آذار ۱۹۹۰ (صفحہ ۵۸) میں ایک عرب خاتون یمانبیل کا ایک مضمون تھا جس کا عنوان تھا: غرناطۃ الفردوس المفقود (غرناطہ، فردوس گم شده)
موصوفہ سیاح کے طور پر غرناطہ گئیں۔ وہاں انھوں نے عرب عہد کے آثار کو دیکھا۔ وہ لکھتی ہیں کہ غرناطہ میں میں نے عرب تاریخ کو اپنے سامنے پایا اور اپنے ماضی کی عظمت کا مشاہدہ کیا۔ ان چیزوں کو دیکھ کر وہ رو پڑیں۔ وہ وہاں کے ایک ایک پتھر سے پوچھتی رہیں کہ یہاں عرب کی عظمت تھی اور یہیں سے پانچ سو سال پہلے عرب کی ذلت شروع ہوئی (هنا كان المجد العربى وهنــا ايضاّ أ الذل العربي قبل خمس مائة عام)
وہ جذباتی انداز میں لکھتی ہیں کہ عربوں نے یہاں اپنے قلعوں اور محلوں اور مسجدوں کو چھوڑ دیا۔ وہ اس شہر سے عورتوں کی طرح روتے ہوئے نکلے۔ وہ مردوں کی طرح اس کی حفاظت نہ کر سکے (ترکوا قِلَاعَهُم وقصورهم ومساجد هم ۔ خرجوا من هذة المدينة يبكون مثل النساء - ملكالم يحافظوا عليه مثل الرجال ۔ وَخَرَجْتُ من غرناطۃ اطأطئ رأسی ۔ واسأل نفسی الی متی سيستمّر هذا الليل العربي وماذا سيكتب التاريخ عنا)
عرب خاتون نے اپنے اس تاثراتی جملہ میں غرناطہ کے آخری سلطان کی ماں کے قول کو دہرایا ہے۔ مگر یہ سادہ معنوں میں مرد اور عورت کا مسئلہ نہیں۔ یہ قومی استعداد کا مسئلہ ہے۔ ۱۹۹۷ء میں ٹیپو مرد کی جنگ لڑے مگر وہ ہار گئے۔ ۱۹۷۱ میں اندرا گاندھی ایک عورت تھی مگر وہ پاکستان کے مقا بلہ میں جیت گئی ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مرد اور عورت کا معاملہ نہیں، بلکہ قومی استعداد اور حالات کا معاملہ ہے۔ اگر حالات موافقت نہ کر رہے ہوں تو کوئی شخص خواہ کتنی ہی زیادہ بہادری کے ساتھ لڑے، وہ مقابلہ میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔
جہاز کا بیشتر سفر خشکی کے اوپر ہوا۔ بالائی فضا میں پرواز کرتا ہوا ہمارا جہاز ہندوستانی وقت
‹ Previous page Next page › Contents of June 1990 All issues