احیا قلب ، احیا حکومت
الرسالہ، جون ۱۹۹۰، صفحہ ۴۶
کا پانچ صفحات کا ایک مضمون شامل کیا گیا ہے۔ اس مضمون کا عنوان ہے : ایٹمی ہلاکت۔ ۵۔ مولانامحمد یوسف ندوی نے بتایا کہ بھوپال میں ۲۳ - ۲۵ دسمبر ۱۹۸۹ کو تبلیغی جماعت کا سالانہ اجتماع تھا۔ اجتماع کے پہلے دن انھوں نے دیکھا کہ سڑک کے کنارے ایک آدمی کتابیں پھیلائے ہوئے بیٹھے ہیں۔ قریب جاکر دیکھا تو دسمبر اور جنوری کا الرسالہ تقریباً دو سو تھا۔ اس کے علاوہ الرسالہ کی کچھ مطبوعات بھی تھیں۔ پوچھا کہ آپ کون ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ میں تو الرسالہ کا دیوانہ ہوں ۔ اس آؤ از کو تمام انسانوں تک پہنچا نا ہی میرا مشن ہے۔ ان کے تمام رسالے اور کتابیں پہلے دو دن کے اندر ختم ہو گئیں۔ یہ پر بھی کے جناب عبد اللہ صاحب تھے۔ ۶۔ فروری ۱۹۹۰ کو گول مارکٹ (نئی دہلی) میں ایک اجتماع ہوا۔ اس میں صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر ہوئی۔ اس کا موضوع ”ممسلمانان ہند کے موجودہ مسائل اور ان کا قرآنی حل“ تھا۔ تقریر بیسوا گھنٹہ کی تھی۔ اس کا کیسٹ مرکز میں محفوظ ہے۔
۷۔ ۸ فروری ۱۹۹۰ کو آصف علی روڈ پر ایک مشترکہ اجتماع تھا۔ اس موقع پر صدر اسلامی مرکز نے ایک تقریر کی۔ اس تقریر میں خصوصیت سے اس بات پر زور دیا گیا کہ اس وقت ملک میں سب سے زیادہ ضروری کام ہندو مسلم منافرت کو ختم کرنا ہے۔ اس کام کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہندو ہندوؤں کو سمجھائیں اور سلمان مسلمانوں کو نصیحت کریں۔ مسلمانوں کا ہندوؤں کو نصیحت کرنا اور ہندوؤں کا مسلمانوں کو نصیحت کرنا مفید نہیں ہو سکتا۔
۸۔ جناب حکیم الدین صاحب نے بتایا کہ انھوں نے ضلع اعظم گڑھ کے مختلف مدرسوں اور کتب خانوں میں جاکر اس کے ذمہ داروں سے ملاقات کی اور اسلامی مرکز کی مطبوعات انھیں دکھائیں۔ لوگوں نے پسند کیا اور کافی مقدار میں کتابوں کی فرمائش کی۔ چنانچہ وہ مکتبہ الرسالہ سے کتابیں حاصل کر کے انھیں سپلائی کر رہے ہیں۔ اس نوعیت کا کام دوسرے مقامات پر بھی کیا جاسکتا ہے۔ ۹۔ کئی کتابوں کے عربی ترجمے تیار ہو کر طباعت کی منزل میں ہیں ۔ ان میں ” دین کامل “ بھی شامل ہے۔ تذکیر القرآن کا عربی ترجمہ کیا جارہا ہے۔ تقریباً سورہ البقرہ تک ترجمہ ہو گیا ہے۔ انشاء اللہ دونوں جلدوں کا مکمل عربی ترجمہ تیار کیا جائے گا۔
۱۰۔ متعدد مقامات کے تبلیغی حضرات نے بتایا کہ ان کے یہاں کے تعلیم یافتہ افراد تبلیغ میں نہیں نکلتے
‹ Previous page Next page › Contents of June 1990 All issues