Al-Risala · June 1990 · page 47

احیا قلب ، احیا حکومت

الرسالہ، جون ۱۹۹۰، صفحہ ۴۷

تھے اور تبلیغ کی اہمیت کو نہیں سمجھتے تھے۔ ایسے لوگوں کو الر سالہ پڑھایا گیا۔ اس کے بعد وہ لوگ تبلیغ میں نکلے اور اس میں شامل ہو کر کام کرنے لگے۔ ان تبلیغی حضرات نے کہا کہ الر سالہ ہمارے لئے ایک تبلیغی ہتھیار ہے۔

۱۱۔ غازی آباد سے ایک پندرہ روزہ اخبار "اودھ اخبار" کے نام سے شائع ہوتا ہے۔ وہ اپنی ہر اشاعت میں الرسالہ کے مضامین اہتمام کے ساتھ شائع کرتا ہے۔ اس طرح ایک نئے حلقہ میں الرسالہ کی دعوت مسلسل پہنچ رہی ہے۔

۱۲۔ عربی مدارس میں الرسالہ بہت مقبول ہو رہا ہے۔ مثلاً ایک عربی مدرسہ کے طلبہ لکھتے ہیں: ہم طلبہ اس رسالہ کو بڑے ذوق و شوق سے پڑھتے ہیں اور بڑی دل چسپی سے مطالعہ کرتے ہیں اور یہ ہمارے لیے بے حد مفید اور کارآمد ہے اس پرچہ کی رسائی ہوتے ہی ہم طلبہ ہاتھوں ہاتھ لے لیتے ہیں ۔ کیونکہ اس کے تمام مضامین شستہ اور معیاری ہوتے ہیں ۱۳۔ جناب کلیم الدین صاحب حیدر آبادی الرسالہ مشن سے خصوصی دل چسپی رکھتے ہیں۔ آج کل وہ نیو یارک میں مقیم ہیں۔ انھوں نے مطلع کیا ہے کہ وہ وہاں الرسالہ انگریزی اور الرسالہ کی انگریزی مطبوعات کے ذریعہ دعوتی کام کر رہے ہیں۔ الرسالہ کیسٹ بھی لوگوں تک پہنچا رہے ہیں۔

۱۴۔ الرسالہ کے مطالعہ سے بہت سے نوجوانوں میں یہ جذبہ پیدا ہو اہے کہ برادران وطن تک اسلام کا پیغام پہنچائیں۔ انھیں میں سے ایک سید عبد اللطیف صاحب (حیدر آباد) اپنے ساتھیوں کے ہمراہ دعوتی کام کر رہے ہیں اور مختلف طریقوں سے غیر مسلمین تک دعوت پہنچارہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس سلسلہ میں الرسالہ خصوصی طور پر ان کے لئے مدد گار ثابت ہو رہا ہے۔ ۱۵۔ الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ کا ایک خاص فائدہ یہ ہے کہ لوگوں کو اس میں ایسے نئے دلائل اور نئی مثالیں ملتی ہیں جن کو وہ اپنی تقریروں میں پیش کریں۔ مثلاً شیخ محمد اقبال (کراچی) لکھتے ہیں کہ وہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں ، اس کے علاوہ کتابوں کا مطالعہ بھی کرتے رہتے ہیں ۔ وہ اپنی تقریروں میں ان کی باتوں کو لے کر بیان کرتے ہیں ، لوگ بہت دل چسپی سے سنتے ہیں اور اثر قبول کرتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1990 All issues

Printed page