اوصاف انسانی
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۰، صفحہ ۱۸
سے لے کر سیاست تک کوئی معاملہ ایسا نہیں جس میں مسلمان متحد ہوں۔ موجودہ مسلمان دنیا کی سب سے زیادہ برباد قوم ہیں، اور اس کی سب سے بڑی وجہ بلاشبہ ان کا عدم اتحاد ہے۔ اس بے اتحادی نے ایک ارب انسانوں کی عظیم قوم کو دنیا کی سب سے کمزور قوم بنا دیا ہے۔
موجودہ مسلمانوں کی اس بے اتحادی کا سبب کیا ہے ۔ اس کا سبب دوبارہ ان کے افراد کا وہ غلط مزاج ہے جو کسی بھی اتحاد کی راہ میں ایک مستقل رکاوٹ بن گیا ہے۔
موجودہ زمانہ میں جب مسلمان تنزل اور مغلوبیت کا شکار ہوئے تو ان کے رہنماؤں کی تشخیص یہ تھی کہ مغرب سے مرعوبیت نے ان کو زوال سے دوچار کیا ہے۔ چنانچہ تمام رہنماؤں نے ایک یادوسری صورت میں یہ کیا کہ اسلام کو پر فخر انداز میں ان کے سامنے پیش کرنا شروع کر دیا۔ تاکہ ان کی مرعوبیت ختم کر سکیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی موجودہ پوری نسل فخر اور حاکمیت کے احساس پر پرورش پا کر اٹھی ہے۔ ہر آدمی نظری اور اعتقادی طور پر اپنے اندر برتری کا جذبہ لیے ہوئے ہے۔ کیوں کہ یہی جذبہ اس کے اندر بھرا گیا تھا۔
یہ نفسیات اتحاد کی قاتل ہے۔ اتحاد اس وقت قائم ہوتا ہے جب کہ ایک شخص کو بڑا بنا کر بقیہ تمام لوگ اس کے مقابلہ میں چھوٹے بننے پر راضی ہو جائیں ۔ مگر مسلمانوں کی پر فخر نفسیات اس میں مانع ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب ہر آدمی سردار بننا چاہتا ہے۔ ہر آدمی چاہتا ہے کہ اس کی بات چلے۔ ہر آدمی چاہتا ہے کہ وہ حاکمانہ سیٹ پر بیٹھے۔ ایسی حالت میں اتحاد قائم ہونا ممکن نہیں۔ اور مسلمانوں کی یہی وہ نفسیات ہے جس نے آج ان کے درمیان کسی بھی اتحاد کو سراسر نا ممکن بنا دیا ہے۔
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ اقتدار کو کھونا نہیں ہے بلکہ انسانی اوصاف کو کھونا ہے۔ موجودہ مسلمان اپنے رہنماؤں کی غلط رہنمائی کے نتیجہ میں، اعلیٰ انسانی اوصاف سے خالی ہو گئے ہیں۔ اب سب سے پہلا ضروری کام یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر وہ اوصاف پیدا کیے جائیں جو اعلیٰ انسانیت کی تشکیل کرتے ہیں۔ جب تک یہ کام نہیں کیا جائے گا مسلمانوں کے احوال تبدیل نہیں ہو سکتے۔ کوئی دوسری کوشش خواہ وہ کتنی ہی بڑی مقدار میں کی جائے، مسلمانوں کے لیے کسی نئے بہتر مستقبل کی تخلیق نہیں کر سکتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1990 All issues