Al-Risala · July 1990 · page 19

کاروانِ ملت

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۰، صفحہ ۱۹

کاروانِ ملت

غالباً ۱۹۳۶ء کی بات ہے جب کہ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ (۱۹۳۵) کے تحت ہندوستان کا پہلا الیکشن ہوا۔ ہر طرف انتخابی سرگرمیوں کی دھوم تھی۔ لوگ نہایت جوش وخروش میں تھے۔ اسی زمانہ میں مولانا اقبال احمد سہیل (۱۹۵۵ء- ۱۸۸۷) کا یہ شعر پہلی بار میرے کانوں نے سنا : اے کاروانِ ملت اٹھ تو بھی گام زن ہو ہر سمت سے صدائیں آتی ہیں طرۂ تو کی ۱۹۳۶ سے پہلے اور اس کے بعد کی تاریخ بتاتی ہے کہ ملت کے قافلے اٹھے۔ مسلم رہنماؤں نے بے شمار تعداد میں طوفان خیز تحریکیں چلائیں۔ ان سرگرمیوں سے لوگوں نے بہت بڑی بڑی امیدیں وابستہ کرلیں جس کا ریکارڈ ماضی کے نظم ونثر کے ذخیرہ میں اب بھی موجود ہے۔ طفیل احمد منگلوری نے " روشن مستقبل" کے نام سے ضخیم کتاب لکھی۔ مولا نا ظفر علی خاں (۱۹۵۶ - ۱۸۶۱) نے اپنی ایک نظم میں یہ اعلان کیا :

عنقریب اسلام کی فصل بہار آنے کو ہے

ان سرگرمیوں پر نصف صدی سے زیادہ کی مدت گزر چکی ہے ۔ مگر ابھی تک اس کا کوئی نتیجہ سامنے نہ آسکا۔ اب ہمارے لکھنے اور بولنے والے دشمنانِ اسلام کی ان سازشوں کے انکشاف میں مشغول ہیں جنھوں نے ہماری پچھلی نسل کی طوفانی کوششوں کو بے نتیجہ کر دیا۔ مگر یہ صرف خود فریبی ہے۔ کیوں کہ خدا کا اٹل قانون ہے کہ اس دنیا میں کوئی قوم ہمیشہ اپنی داخلی کمیوں کی بنا پر بازی ہارتی ہے نہ کہ بیرونی سازشوں کی بنا پر۔

موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے اپنی قوم کو جو رہنمائی دی، وہ ایک لفظ میں یہ تھی کہ ۔ ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں تلوار لے کر آگے بڑھو اور ساری دنیا میں اسلام کا جھنڈا گاڑ دو۔ چنانچہ سوسال سے بھی زیادہ عرصہ سے مسلمان لفظی یا عمل تلوار بازی کے اسی مشغلہ میں مصروف رہے ہیں۔ آجکل پاکستان اور کشمیر میں یہی منظر دیکھا جاسکتا ہے جہاں مسلم نوجوان دہشت گردی کے عملی میں مشغول ہیں اور پر جوش طور پر یہ ترانہ گا رہے ہیں : دل میں ہے اللہ کا خوف ہاتھ میں ہے کلاشنکوف (Kalashnikov)

‹ Previous page Next page › Contents of July 1990 All issues

Printed page