Al-Risala · July 1990 · page 21

جولائی ۱۹۸۹ء الحلال ۲۱

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۰، صفحہ ۲۱

فکری یا عملی رخ کا مطالعہ کیجئے، ہر جگہ آپ کو اسی کی جھنکار سنائی دے گی۔ نثر کے دور میں شاعری، خاموش تدبیر کے دور میں خطابت، عملی منصوبہ بندی کے دور میں لفظی ہنگامہ آرائی۔ تعمیر کے دور میں تخریب، پر امن جدوجہد کے دور میں عسکری سرگرمی، سائنسی تفکیر کے دور میں روایتی تفکیر، حقائق کی بنیاد پر اٹھنے کے دور میں خوش خیالیوں کی بنیاد پر اٹھنے کا خواب ــــــ سب اسی کے مظاہر ہیں، اور یہی مختصر طور پر موجودہ زمانہ کے تمام مسلم رہنماؤں کی رہنمائی کا خلاصہ ہے۔ اس قسم کی ہر کوشش خلاف زمانہ حرکت (anachronism) کی مصداق سکتی، اور خلاف زمانہ حرکت کبھی کسی کے لیے نتیجہ خیز نہیں ہو سکتی۔ ملت کے کاروان کو دوبارہ متحرک کرنے کے لیے شاعری اور خطابت اور انشا پردازی کا انداز صرف الٹا نتیجہ پیدا کرنے والا ہے۔ اس قسم کی پر جوش لفاظی کا نتیجہ صرف یہ ہو سکتا ہے کہ ایک پچٹری ہوئی قوم دوبارہ خوش فہمیوں کے گڑھے میں گر کر رہ جائے۔

اس وقت کرنے کا کام یہ ہے کہ ملت کے افراد میں دوبارہ سچی دینی روح پیدا کی جائے۔ ان کو کلمہ گو۔ کی سطح سے اٹھا کر "کلمہ فہم" کی سطح پر لایا جائے۔ تقلیدی ایمان کی جگہ ان کے اندر زندہ اور شعوری ایمان پیدا کیا جائے۔ ان کے عقیدہ کو دوبارہ فکری انقلاب بنا دیا جائے۔ دوسرا کام یہ ہے کہ ملت کو عصر حاضر کے تقاضوں سے باخبر کیا جائے ۔ ایک روایت میں مومن کو بصیرا بزمانه (اپنے زمانہ سے باخبر انسان) بتایا گیا ہے۔ یہ بلاشبہ انتہائی اہم ہے۔ اس کے بغیر ملت کا قافلہ اپنی مطلوبہ منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔

الرسالہ کیسٹ نمبر ۱ ایمان نمبر ۵ تعمیر ملت نمبر ۲ اسلامی دعوت کے جدید امکانات نمبر ۶ سنت رسول نمبر ۳ اسلامی اخلاق نمبر ۷ میدان عمل نمبر ۴ اتحاد نمبر ۸ پیغمبرانہ رہنمائی (زیر تیاری)

جولائی ۱۹۸۹ء الحلال ۲۱

‹ Previous page Next page › Contents of July 1990 All issues

Printed page