فخر کا نقصان
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۰، صفحہ ۲۲
فخر کا نقصان
ایک مسلم رہنما نے اسلامی تعلیمات پر ایک کتاب لکھی ہے۔ اس کا آغاز وہ ان الفاظ سے کرتے ہیں ــ " دنیا میں جتنے مذاہب ہیں ان میں سے ہر ایک کا نام یا تو کسی خاص شخص کے نام پر رکھا گیا ہے یا اس قوم کے نام پر جس میں وہ مذہب پیدا ہوا۔ مثلاً عیسائیت کا نام اس لیے عیسائیت ہے کہ اس کی نسبت حضرت عیسیٰ کی طرف ہے۔ بودھ مت کا نام اس لیے بودھ مت ہے کہ اس کے بانی مہاتما بدھ تھے۔ زردشتی مذہب کا نام اپنے بانی زردشت کے نام پر ہے۔ یہودی مذہب ایک خاص قبیلہ میں پیدا ہوا جس کا نام یہوداہ تھا۔ ایسا ہی حال دوسرے مذاہب کے ناموں کا بھی ہے ۔ مگر اسلام کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ کسی شخص یا قوم کی طرف منسوب نہیں ہے۔ بلکہ اس کا نام ایک خاص صفت کو ظاہر کرتا ہے جو لفظ اسلام کے معنی میں پائی جاتی ہے۔ یہ نام خود ظاہر کرتا ہے کہ یہ کسی ایک شخص کی ایجاد نہیں ہے۔ نہ کسی ایک قوم کے ساتھ مخصوص ہے۔ اس کو شخص یا ملک یا قوم سے کوئی علاقہ نہیں۔ صرف اسلام کی صفت لوگوں میں پیدا کرنا اس کا مقصد ہے ۔ "
مگر انھیں مسلم رہنما نے بیسویں صدی عیسوی کے وسط میں اپنے ملک میں اسلامی نظام کے قیام کی تحریک اٹھائی تو اس کا نام انھوں نے " نظام مصطفےٰ " رکھا۔ یعنی محمدی نظام نہ کہ اسلامی نظام۔ جس مذہب کی شان انھوں نے یہ بیان کی تھی کہ اس کا نام کسی شخص کے نام پر نہیں ہے، اسی مذہب کو شخص کے نام پر منسوب کرکے اپنی پوری تحریک چلا دی۔ یہ تضاد کیوں پیش آیا۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے ۔ انھوں نے کتاب میں جو کچھ لکھا، وہ اپنے فخر کا اظہار تھا۔ جو چیز فخر کے اظہار کے طور پر ہو وہ آدمی کی نفسیات کا جزر نہیں بنتی اور اسی لیے وہ اس کے حقیقی عمل میں شامل نہیں ہوتی ۔
فخر ہمیشہ دوسروں کے سامنے کیا جاتا ہے۔ کوئی آدمی کسی جزیرہ میں بالکل تنہا ہو تو وہاں فخریہ کلام اس کی زبان پر جاری نہیں ہوگا۔ جب وہاں اس کی اپنی ذات کے سوا کوئی دوسرا شخص موجود نہیں تو وہ فخر کرے گا تو کس کے لیے کرے گا۔ وہ کس کے مقابلہ میں اپنے کو اونچا دکھائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1990 All issues