Al-Risala · July 1990 · page 23

فخر کا نقصان

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۰، صفحہ ۲۳

بالفاظ دیگر، فخریہ کلام دوسروں کے لیے نکلتا ہے نہ کہ خود اپنے لیے۔ اور جو کلام دوسروں کے لیے نکلے وہ اپنی اصلاح کا ذریعہ کیوں کر بن سکتا ہے۔

موجودہ زمانہ میں ظہور میں آنے والی تحریروں اور تقریروں کو کسی ایک خانہ میں رکھنا ہو تو وہ یقینی طور پر فخر کا خانہ ہوگا۔ " ہمارا نبی سب سے افضل ، ہمارا دین سب سے کامل ، ہماری تاریخ سب سے شاندار " یہی وہ نفسیات ہے جو موجودہ زمانہ کے لکھنے اور بولنے والوں کے کلام میں رچی بسی ہوئی ہے۔ شعار وتکلم کے اسلوب میں اور مصنفین نثر کے اسلوب میں اسی کے نغمے گا رہے ہیں۔ اس نفسیات نے موجودہ زمانہ میں ہماری تمام کوششوں کو " اندر رخی " کے بجائے " باہر رخی " بنا دیا ہے۔ ہم اس لیے لکھتے اور بولتے ہیں کہ دوسروں کے مقابلہ میں اپنے فخر کا اظہار کریں، دوسروں کے درمیان اپنی بڑائی ثابت کر کے خوش ہوں ۔ اس طرح ہمارا کلام اپنے آغاز ہی میں دوسروں کے لیے ہو جاتا ہے۔ وہ ہمارے اپنے لیے نہیں رہتا۔ جس کلام کا مقصد پر فخر جذبات کی تسکین ہو اس کا نشانہ بالکل فطری طور پر دوسرے ہو جاتے ہیں۔ آدمی کی اپنی ذات اس کی زد میں نہیں آتی ۔ آدمی اپنی برتری کے جذبات کی تسکین حاصل کر کے مطمئن ہو جاتا ہے کہ جو مطلوب تھا وہ اس کو مل گیا۔ اس کے بعد خود اپنی ذات کو اس کی میزان پر کھڑا کرنے کا خیال اسے کبھی نہیں آتا ۔ کیونکہ وہ اس کا مقصود ہی نہ تھا۔

حقیقتِ حج از: مولانا وحیدالدین خاں حج کا سفر خدا کی طرف سفر ہے۔ حج حق تعالیٰ سے ملاقات ہے۔ دوسری عبادتیں اللہ تعالیٰ کی یاد ہیں۔ جب کہ حج خود اللہ تعالیٰ تک پہنچ جانا ہے۔ عام عبادت اگر غیب کی سطح پر خدا کی عبادت ہے تو حج شہود کی سطح پر خدا کی عبادت کرنا ہے۔

(صفحات ۱۱۳ قیمت ۲۰ روپیہ، مققہ صفحات ۴۸ قیمت ۵ روپیہ)

‹ Previous page Next page › Contents of July 1990 All issues

Printed page