تعلیم قومی ترقی کی بنیاد
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۰، صفحہ ۳۰
صرف ایک ہنا چاہئے۔ یعنی لازمی تعلیم اور صد فی صد تعلیم ۔ اس سے کم کی کوئی بھی چیز ہمیں ترقی یافتہ قوم نہیں بنا سکتی۔
ہندوستان کی ۸۵ فی صد آبادی ابھی تک تقریباً جاہل ہے۔ ایسی حالت میں ہندوستان جیسے بڑے ملک کے لئے ”لازمی تعلیم اور صد فی صد تعلیم“ کا منصوبہ کوئی سادہ سی بات نہیں۔ یہ بلا شبہ انتہائی مشکل کام ہے۔ اس پر سچائی کے ساتھ عمل کرنے کے لئے ہمیں اپنی سوچ میں انقلابی تبدیلی لانی پڑے گی۔ مثلاً ملکی دفاع کے موجودہ بجٹ میں قابل لحاظ حد تک کمی کرنا ، وغیرہ ۔ ہمیں خطرات کو نظر اند از کے اس کام کی طرف آگے بڑھنا ہو گا ۔ اس کے بغیر قوم کو تعلیم یافتہ بنانا ہر گز ممکن نہیں۔ یہاں میں دوبارہ کہوں گا کہ اگر ہم ایسا حوصلہ کریں تو ہم اس میدان میں اکیلے نہیں ہوں گے مثلاً جاپان نے جو معجزاتی ترقی کی ہے ، اس کی ایک زبر دست قیمت اس کو ادا کرنی پڑی۔ اس کو وہ کام کرنا پڑا جس کو جاپان کے سابق شہنشاہ، ہیرو و ہیٹو نے ” نا قابل بر داشت کو بر داشت کرنا“ بتایا تھا۔ یہ ناقابل بر داشت چیز امریکہ کے سیاسی اور فوجی غلبہ کا مسئلہ تھا۔ جاپان اگر دوسری عالمی جنگ کے بعد اس مسئلہ کو چھیڑتا تو وہ تعلیم و ترقی کی راہ میں آگے نہیں بڑھ سکتا تھا۔ چنانچہ اس نے اس اصول پر عمل کیا کہ ۔ ۔۔ مسائل کو نظر انداز کرو اور مواقع کو استعمال کرو : Starve the problems, feed the opportunities. جاپان نے امریکی غلبہ کے مسئلہ کو نظر انداز کر کیا ، اور جو میدان اب بھی اس کے لئے کھلا تھا ، یعنی اپنی نسل کو تعلیم یافتہ بنانا ، اس پر اپنی ساری توجہ لگا دی۔ اس تدبیر کا نتیجہ یہ ہوا کہ چالیس سال میں پوری تاریخ بدل گئی۔
آخر میں یہاں میں پیغمبرِ اسلام کا ایک واقعہ نقل کرنا چاہتا ہوں جو اس معاملہ میں ہمارے لئے بہت حوصلہ افزا مثال پیش کرتا ہے۔
پیغمبر اسلام کو اپنے مخالفین کے ساتھ چند دفاعی جنگیں لڑنی پڑیں۔ ان میں سے ایک جنگ وہ ہے جو جنگِ بدر کہی جاتی ہے۔ اس جنگ کے بعد آپ کے پاس دشمن کے ۷۰ افراد جنگی قیدی کے طور پر آئے۔ یہ لوگ مکہ کے تھے۔ آپ نے ان قیدیوں کا یہ فدیہ مقرر کیا کہ ان میں سے ہر ایک شخص اگر مسلمانوں کے دس نو جوانوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دے تو اس کو رہا کر دیا جائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1990 All issues