Its advent changed the course of human history.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۰، صفحہ ۳۱
یہ اسلام کی تاریخ میں پہلا اسکول تھا جو خود پیغمبر نے قائم کیا۔ اس اسکول کے تمام ٹیچر نہ صرف غیر مسلم بلکہ اسلام کے ثابت شدہ دشمن تھے۔ مزید یہ کہ ان لوگوں کو رصع کرنے میں یہ یقینی خطرہ تھا کہ وہ لوگ دوبارہ منظم ہو کر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جارحیت کریں گے۔ مگر ان تمام ناموافق پہلوؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے آپ نے ان کے ذریعہ سے اپنے بچوں کی تعلیم کا انتظام کیا۔ علم اور تعلیم کو یہ غیر معمولی اہمیت دینے کا نتیجہ یہ ہوا کہ دور اول کے مسلمانوں میں یہ روایت قائم ہو گئی کہ علم سب سے بڑی چیز ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کو جب مواقع ملے تو انھوں نے سب سے زیادہ علم کی طرف توجہ دی۔ انھوں نے اپنی ہر مسجد اور ہر گھر کو مدرسہ بنا دیا۔ انھوں نے بے شمار تعداد میں یونیورسٹیاں اور کتب خانے قائم کئے۔ تمام دنیا کی کتابیں (بشمول ہندوستان) جمع کر کے ان کا عربی زبان میں ترجمہ کیا گیا ۔ وغیرہ وغیرہ۔
ان علمی اور تعلیمی سرگرمیوں کے نتیجہ میں ایک نئی تہذیب وجود میں آئی ۔ توہماتی دور کی جگہ ایک نیا سائنٹفک دور پیدا ہونا شروع ہوا۔ یہاں تک کہ وہ واقعہ ظہور میں آیا جس کو ایک امریکی انسائیکلو پیڈیا میں ” اسلام “ کے مقالہ کے تحت بتایا گیا ہے کہ اسلام نے انسانی تاریخ کے رخ کو بدل دیا :
Its advent changed the course of human history.
علم ہی تمام ترقیوں کی بنیاد ہے ، خواہ مذہبی ترقی کا معاملہ ہو یا سیکولر ترقی کا معاملہ۔ اس لئے جو لوگ بھی حقیقی ترقی چاہتے ہوں، انھیں چاہئے کہ سب سے زیادہ تعلیم اور مطالعہ پر زور دیں۔ تعلیم اور مطالعہ افراد کو باشعور بناتا ہے، اور باشعور افراد ہی کسی گہری بات کو سمجھتے ہیں، باشعور افراد ہی اس دنیا میں کوئی بڑا کارنامہ انجام دے سکتے ہیں۔
اقوال حکمت صفحات ۱۹۶ ہدیہ ۲۰ روپیہ
‹ Previous page Next page › Contents of July 1990 All issues