Al-Risala · January 1990 · page 35

Islam in 21st century

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۰، صفحہ ۳۵

اس سے پہلے ایک سفر کے دوران میں نے کراچی ایئر پورٹ کی مسجد میں نماز ادا کی تھی (رسالہ مئی ۱۹۸۷ء، صفحہ (۲۲) اس سفر میں دو بارہ کچھ وقت اس خوب صورت مسجد میں گزارنے کا اتفاق ہوا۔ اس مسجد کو دیکھ کر خیال ہوا کہ ایئر پورٹ کے اندر مسجد کا ہونا شاید اسی وقت ممکن ہے جب کہ وہ ایئر پورٹ کسی مسلم ملک میں واقع ہو۔ مگر پھر یاد آیا کہ اب زمانہ غیر معمولی طور پر بدل چکا ہے چنانچہ اب اٹلی اور اسپین جیسے ملکوں میں بھی شاندار مسجدیں بن رہی ہیں۔ اللہ تعالی نے دنیا کے حالات میں ایسی تبدیلی کی ہے کہ اب خود سیکو لر ملک محسوس کر رہے ہیں کہ مسجد" ان کے سیکولرزم پر دھبہ نہیں۔ بلکہ مسجدان کی سیکولرزم کی تپا پر ایک تصدیقی تمغہ ہے۔ چنانچہ فرانس میں پاکستان کا واقعہ دہرایا جا رہا ہے۔ فرانس کی راجدھانی پیرس میں اورلی ہوائی اڈہ (Orly International Airport) ہے۔ وہ دنیا کے ان ۲۴ بڑے ہوائی اڈوں میں شمار ہوتا ہے جہاں سالانہ ایک کروڑ سے زیادہ مسافر چڑھتے اور اترتے ہیں۔ تازہ خبر یہ ہے کہ اس فرانسیسی ہوائی اڈہ پر ایک مسجد بنائی گئی ہے تاکہ یہاں سے گزرنے والے مسلمان مسافروں کو عبادت گزاری کی سہولت حاصل ہو سکے۔

کراچی ایئر پورٹ پر کئی گھنٹے انتظار میں گزرے۔ میں ایک سیٹ پر بیٹھا ہوا کچھ یاد داشتیں نوٹ کرنے میں مشغول تھا۔ میرے پاس کی سیٹ پر ایک مسلمان لڑکی آکر بیٹھ گئی۔ کچھ دیر تک دیکھتے رہنے کے بعد وہ مجھے مخاطب کرتے ہوئے بولی۔ انکل، آپ شاعر ہیں۔ میں نے سرہلا کر نفی میں جواب دیا۔ میں نے اس سے مزید کچھ نہ کہا اور نہ کچھ پوچھا۔ تاہم میں سوچتا رہا کہ اس نے ایسا سوال کیوں کیا۔ اس کی وجہ غالب یہ تھی کہ لوگ لکھنے کے نام سے صرف تفریحی لکھنے کو جانتے ہیں، وہ سمجھ نہیں پاتے کہ کوئی شخص کسی سنجیدہ مقصد کے لئے بھی قلم کاغذ میں مشغول ہوگا۔

کراچی ایئر پورٹ کے اندر داخل ہوتے ہوئے میں امیگریشن کی کھڑکی پر کھڑا تھا۔ میں کئی آدمیوں کے پیچھے تھا۔ پولیس کے آدمی نے مجھے آگے کر دیا۔ ایک مسافر نے کہا کہ یہ تو پیچھے تھے ۔ یہ بزرگ ہیں" اس نے جواب دیا۔ اس نے فورا میرے پاسپورٹ پر ضروری اندارج کرایا اور مجھے دیتے ہوئے کہا، ہمارے لئے دعا کیجیے گا۔ یہ میرے بڑھاپے کی قیمت تھی۔ میں نے سوچا کہ اس دنیا میں اگر طاقت ور" ہونا اپنے اندر کچھ ایڈوانٹیج رکھتا ہے تو یہاں کمزور" ہونے کے بھی کچھ ایڈوانٹیج ہیں۔ مگر اس کا فائدہ اسی شخص کو ملتا ہے جو فطرت کو اپنا عمل کرنے کا موقع دے اور عاجلانہ مداخلت کر کے فطرت کا نقشہ بگاڑ

‹ Previous page Next page › Contents of January 1990 All issues

Printed page