Al-Risala · January 1990 · page 36

Islam in 21st century

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۰، صفحہ ۳۶

نہ ڈالے۔

کراچی سے طرابلس کے لئے لیبین ائیرویز کی فلائٹ نمبر ۲۶۳ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ دروازہ پر پہنچاتو مسافروں کے کاغذات اور سامان کی زبردست چیکنگ ہو رہی تھی۔ میرا حلیہ دیکھ کر جہاز کے عملہ کے ایک عرب رکن نے پوچھا کہ آپ کانفرنس میں جا رہے ہیں۔ میں نے کہا ہاں۔ اس کے بعد اس نے کسی قسم کی چیکنگ کے بغیر اندر داخل کر دیا۔

دل سے دعا نکلی کہ کاش آخرت میں بھی ایسا ہی معاملہ ہو۔ صرف نام پوچھ کر آگے بڑھا دیا جائے۔ رحمتوں کے دروازہ میں بلا حساب کتاب داخلہ مل جائے۔ اور بلا شبہ یہ اللہ کے لئے مشکل نہیں۔ کراچی سے طرابلس کا سفر متواتر سات گھنٹہ کا تھا۔ شروع میں خیال آیا کہ یہ بڑا تکلیف دہ سفر ہوگا۔ مگر دوران پرواز نیند آتی رہی۔ اس لئے اس کا بڑا حصہ سونے میں گزر گیا۔ صبح کو ہمارے پیچھے کی طرف شفق کا اجالا ظاہر ہوا۔ تھوڑی دیر کے بعد پور اجالا ہو جانا چاہیے تھا۔ مگر جہاز گھنٹوں تک اسی حالت میں پرواز کرتا رہا۔ جب بھی میں باہر کی طرف دیکھتا تو محسوس ہوتا کہ اجالا بے حد سست رفتار کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ ہمارا یہ سفر مشرق سے مغرب کی طرف ہو رہا تھا۔ یعنی طلوع آفتاب کے الٹی طرف۔ یہی ”سمت سفر“ کا معاملہ تھا جس نے اجالا ہونے میں اتنی تاخیر کر دی۔ زمین کی گردش اپنے محور پر ایک ہزار میل فی گھنٹہ ہے۔ اگر آپ اپنے مقام پر صبح کے وقت کسی ٹیلہ پر کھڑے ہوں تو سورج آپ کی طرف ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے آ رہا ہوگا۔ چنانچہ بہت جلد اجالا ظاہر ہو جائے گا۔ لیکن ہوائی جہاز کے ذریعہ جب آپ مشرق سے مغرب کی طرف آٹھ سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑ رہے ہوں تو اس وقت آپ کے لئے سورج کے سفر کی رفتار گھٹ کر صرف دو سو میل فی گھنٹہ رہ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی حالت میں اجالے کے ظہور میں تاخیر ہو جاتی ہے۔

واپسی کے وقت ۳۰ ستمبر ۱۹۸۹ء کو اس کے برعکس صورت پیش آئی۔ یہ سفر مغرب سے مشرق کی طرف تھا۔ صبح کو شفق کی سرخی ظاہر ہوئی۔ اور نہایت تیزی کے ساتھ اجالا ہونے لگا۔ ایسے وقت میں اگر آپ ہوائی جہاز کے ذریعہ آٹھ سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے مغرب سے مشرق کی طرف اڑ رہے ہوں تو صبح کا اجالا آپ کی طرف ۱۸ سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے آتا ہوا دکھائی دینے لگے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1990 All issues

Printed page