موجودہ مسلمان
الرسالہ، اگست ۱۹۹۰، صفحہ ۴
موجودہ مسلمان
امریکہ میں یہودی ظاہری سطح پر نہایت کامیاب ہیں۔ مگر اندرونی سطح پر وہاں کے باشندوں میں ان کے خلاف بیزاری پائی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ کچھ لوگوں کا اندازہ ہے کہ آئندہ امریکہ میں یہودیوں کے ساتھ وہی مخالفانہ صورتِ حال پیش آسکتی ہے جو دوسری عالمی جنگ سے پہلے جرمنی میں ان کے ساتھ پیش آئی تھی۔
ایک یہودی سے کہا گیا کہ کیا آپ لوگ اس کو پسند کریں گے کہ آپ کی آبادی کے تناسب سے امریکہ میں آپ کو ایک الگ خطہ دیدیا جائے جہاں آپ ”یہودی لینڈ“ بناسکیں۔ اس نے فورا جواب دیا : ہرگز نہیں۔ اس طرح تو ہم ایک خول میں بند ہو جائیں گے۔ ہمارا کام تجارت کرنا ہے۔ آج ہم پورے امریکہ میں آزادانہ تجارت کر رہے ہیں۔ ہم کیسے پسند کر سکتے ہیں کہ ایک وسیع براعظم کو چھوڑ کر صرف ایک چھوٹی سی شہری ریاست میں سمٹ جائیں۔ تاجر کا کوئی ملک نہیں ہوتا :
The merchant has no country. (Thomas Jefferson)
یہ یہودیوں کی سوچ ہے۔ اس کے مقابلہ میں موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو دیکھئے۔ ساری دنیا میں جہاں کہیں بھی ان کی کچھ تعداد ہے، ہر جگہ وہ چاہتے ہیں کہ اپنے لیے ایک الگ جزیرہ بناسکیں ۔ ہر جگہ وہ ” آزادی“ کی تحریک چلا رہے ہیں تاکہ وہ اپنے لیے ایک ہوم لینڈ حاصل کر لیں۔ یہودی توینع کو اپنا نشانہ بناتے ہوئے ہیں اور مسلمان محدودیت کو۔
علامہ اقبال ( ۱۹۳۸ء ۔ ۱۸۷۷ء) نے اپنے اشعار کے ذریعہ مسلمانوں کے درمیان بہت زیادہ مقبولیت حاصل کی۔ انھوں نے پر فخر طور پر یہ شعر کہا :
چین و عرب ہمارا ہندوستان ہمارا مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا اقبال کے اس شعر پر اور اسی طرح کے دوسرے اشعار پر) ان کے لیے ہر طرف واہ واہ، کیا خوب کی صدائیں گونج اٹھیں۔ اکبر الٰہ آبادی ( ۱۹۲۱ - ۱۸۴۶ء) نے ان کو داد دیتے ہوئے کہا : رقبہ کو کم سمجھ کر اقبال بول اٹھے ہندوستان کیا سارا جہاں ہمارا
‹ Previous page Next page › Contents of August 1990 All issues