موجودہ مسلمان
الرسالہ، اگست ۱۹۹۰، صفحہ ۱۳
تاہم یہ سب لفظی خیال آرائی کی باتیں تھیں۔ حقیقی عملی سطح پر معاملہ اس کے بالکل برعکس تھا۔ ۱۹۳۰ء میں الہ آباد میں آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس ہوا۔ اقبال کو اس کا صدر بنایا گیا۔ اقبال لاہور سے آکر اس جلسہ میں شریک ہوتے۔ انھوں نے اس موقع پر ایک انگریزی خطبہ صدارت پڑھا۔ اس خطبہ میں ہندوستان کے مسلمانوں کے مسئلہ کا حل یہ پیش کیا گیا تھا کہ ملک کے مغربی حصہ میں زمین کے ایک ٹکڑے کو الگ کرکے وہاں علیحدہ مسلم اسٹیٹ بنا دیا جائے ۔ یہی تخیل ہے جس نے ۱۹۴۷ء میں پاکستان کی صورت اختیار کی۔
شاعرانہ لفاظی میں اقبال ساری دنیا کو اپنا وطن بتا رہے تھے اور عمل کی سطح پر وہ اس پر راضی ہو گئے کہ انھیں ایک ملک کے کنارے ایک چھوٹا سا رقبہ بانٹ کر دیدیا جائے۔ تقسیم ۔ یا سٹاڈ کا یہ ذہن موجودہ زمانہ میں تمام دنیا کے مسلمانوں پر چھایا ہوا ہے۔ جہاں بھی مسلمانوں کی کچھ تعداد ہے، وہاں وہ اس بات کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں کہ بقیہ ملک سے کاٹ کر انھیں ایک آزاد مسلم لینڈ دیدیا جائے۔ برما، فلپائن، اریٹیریا، لبنان، لنکا، بلغاریہ، کشمیر، آذر بیجان وغیرہ۔
یہودیوں اور مسلمانوں میں یہ فرق کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہودیوں کے سامنے ایک مقصد ہے۔ جب کہ مسلمانوں کے سامنے کوئی مقصد نہیں۔ یہودیوں نے تجارت کو اپنا مقصد بنا رکھا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جتنا بڑا ملک ہوگا، اتنی ہی زیادہ بڑی تجارت کے مواقع انھیں حاصل رہیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ سمٹاؤ کے بجائے پھیلاؤ کے ذہن سے سوچتے ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ان کے سامنے کوئی بڑا مقصد نہیں۔ یہودیوں کی طرح تجارت کو وہ اپنا قومی مقصد نہ بنا سکے۔ اور خدا اور رسول نے ان کو جس مقصد کی طرف رہنمائی کی تھی، اس کو بھی انھوں نے کھو دیا۔
مسلمان ہونے کی حیثیت سے ان کا مقصد صرف ایک تھا، اور وہ دعوت إلى الله ہے۔ مگر دعوت إلى اللہ کا مسلمانوں میں کوئی وجود نہیں۔ نہ صرف ان کے اصاغر بلکہ ان کے تمام اکابر بھی اس کو مکمل طور پر بھولے ہوئے ہیں ۔ اس معاملہ میں ان کی غفلت یہاں تک پہونچی ہے کہ وہ دوسرے دوسرے کام کرتے ہیں اور بالکل غلط طور پر اس کو " دعوت " کا نام دیدیتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1990 All issues