موجودہ مسلمان
الرسالہ، اگست ۱۹۹۰، صفحہ ۱۴
گویا دعوتی کام کرنا تو در کنار، وہ شعوری طور پر جانتے بھی نہیں کہ وہ کیا چیز ہے جس کو دعوت کہا جاتا ہے۔
دعوت ایک عظیم ترین عالمی مقصد ہے۔ اگر مسلمانوں میں دعوت کا ذہن بیدار ہوتا تو وہ ہمیشہ پھیلاؤ کی بات سوچتے۔ وہ چاہتے کہ زمین کی تمام حد بندیاں ٹوٹ جائیں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ دعوت الی اللہ کا کام کر سکیں۔ مگر جب انھوں نے دعوت کو بھلا دیا تو وہ ہر جگہ پناہ گاہیں تلاش کرنے لگے جہاں سمٹ کر وہ اپنے آپ کو بچا سکیں۔
بے مقصد انسان تقسیم چاہتا ہے، بامقصد انسان انضمام کا طالب ہوتا ہے۔ بے مقصد انسان تحفظ کی طرف دوڑتا ہے، بامقصد انسان توسیع اور اقدام کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔ بے مقصد انسان سمٹاؤ میں پناہ لیتا ہے، بامقصد انسان پھیلاؤ میں اپنے حوصلوں کی تکمیل ڈھونڈتا ہے۔ آہ وہ مسلمان، جنھوں نے خدا اور رسول کو کھو کر اپنی دنیا بھی کھودی اور اپنا دین بھی۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان آج ہر جگہ مقامی اقتدار کے طالب ہیں، عالمی اشاعتِ اسلام کا ان کے اندر حوصلہ نہیں۔ وہ مادی مواقع کے طالب ہیں، دعوتی مواقع کے لیے ان کے اندر کوئی تڑپ نہیں۔ یہی وہ چیز ہے جس نے ان کی تمام سرگرمیوں کو بے فائدہ بنا دیا ہے۔
قومی اقتدار اور مادی مفاد کی جدوجہد مسلمانوں کو دوسری قوموں کا حریف بنا دیتی ہے۔ اس کے برعکس مواقع دعوت کی طلب مسلمانوں کے اندر دوسری قوموں کے لیے خیر خواہی کا مزاج پیدا کرتی ہے۔ قومی اندازِ فکر محدودیت کی طرف لے جاتا ہے اور دعوتی اندازِ فکر آدمی کی نظر کو لامحدود بناتا ہے۔ انھیں دو باتوں میں مسلمانوں کے حال اور مستقبل کی پوری کہانی چھپی ہوئی ہے۔ اسلام دورِ جدید کا خالق صفحات ۱۱۲ ۲۰ روپیہ
‹ Previous page Next page › Contents of August 1990 All issues