Al-Risala · August 1990 · page 20

بچوں کی تربیت

الرسالہ، اگست ۱۹۹۰، صفحہ ۲۰

بچوں کی تربیت

ایک صاحب اپنے بچوں کی تربیت کا بہت اہتمام کرتے تھے۔ ایک مولوی صاحب روزانہ ان کے یہاں آتے تھے تاکہ بچوں کو دینی تعلیم دیں۔ اس کے علاوہ وہ خود اپنے بچوں کو نماز کی تاکید کرتے۔ وہ روزانہ اپنے بچوں کو لے کر بیٹھتے۔ ان کو کلمہ اور دعائیں یاد کراتے۔ ان کو بتاتے کہ خدا کی عبادت کرو۔ بڑوں کا احترام کرو۔ لوگوں کے ساتھ اخلاق سے پیش آؤ۔ وغیرہ مگر ان کے بچے بڑے ہو کر ویسے ہی شریر اور دنیا دار نکلے جیسے عام لوگوں کے بچے ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ موصوف اپنی زبان سے تو بچوں کو دین کی تعلیم دیتے، اور اپنے عمل سے بے دینی کا نمونہ پیش کرتے۔ الفاظ کے اعتبار سے وہ دین دار تھے، مگر انھوں نے اپنے گھر میں عملی اعتبار سے دینداری کی فضا نہیں بنائی۔

مثلاً انہیں اپنے محلے کے ایک شخص سے ضد ہوگئی۔ یہ ضد محض انانیت کی بنا پر تھی۔ ان کے خیال کے مطابق، اس شخص نے ایک بار ان کی توہین کردی تھی۔ اس کے بعد ان کے اندر اس کے خلاف انتقامی جذبہ بھڑک اٹھا۔ گھر میں اس کی برائیاں کرتے۔ انھوں نے اس کو ہر طرح بدنام کرنے کی کوشش کی۔ اس کی معاشیات کو برباد کرنے کی تدبیریں کیں۔ حتیٰ کہ اس کے خلاف جھوٹے مقدمے قائم کیے۔ وغیرہ۔

یہ سلسلہ تقریباً پندرہ سال تک جاری رہا۔ بچے موصوف کی زبان سے دین کی باتیں سنتے۔ اور گھر کے بگڑے ہوئے ماحول کے اعتبار سے تخریب کاری کی فضا میں سانس لیتے ۔ اور نفسیات کا فیصلہ ہے کہ جہاں اس قسم کی دوئی پائی جائے، وہاں آدمی حقیقی ماحول کا اثر قبول کرے گا نہ کہ اوپر ی قسم کے الفاظ کا۔ الفاظ کی زبان کے مقابلہ میں عمل کی زبان ہمیشہ زیادہ طاقت ور ثابت ہوتی ہے۔ یہی اکثر ”دین دار“ والدین کا حال ہے۔ وہ اپنے گھر والوں کے سامنے خدا کی بات کریں گے مگر عملاً ان کی ساری توجہ غیر خدا کی طرف لگی ہوئی ہوگی۔ وہ زبان سے آخرت کا نام لیں گے مگر اپنے گھر کا عملی نظام اس طرح بنائیں گے جیسے دنیا کا سازو سامان جمع کرنے کے سوا زندگی کا اور کوئی مقصد نہیں۔ الفاظ کے ذریعہ وہ نیکی کا چرچا کریں گے مگر اپنی کمائی کو نیکی کی راہ میں دینے کے بجائے اس

‹ Previous page Next page › Contents of August 1990 All issues

Printed page