Al-Risala · January 1990 · page 37

Islam in 21st century

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۰، صفحہ ۳۷

وقت کی سمت کے خلاف چلنا بھی سفر ہے، اور وقت کی سمت کی طرف چلنا بھی سفر۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے دونوں میں اتنا فرق ہو جاتا ہے کہ ایک شخص اگر " ۲۰۰ میل " فی گھنٹہ کی رفتارسے چل رہا ہو تو دوسرے کے سفر کی رفتار " ۸۰۰ میل " فی گھنٹہ تک پہنچ جائے گی۔

لیبین ایرویز کا مخفف ایل اے (L.A) ہے۔ اس سلسلہ میں بعض لیبیوں کے درمیان ایک لطیفہ مشہور ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایل اے کا مطلب ہے Late Always ان کا کہنا ہے کہ لیبین ایئر لائنز کے جہاز اکثر شکانی لیسٹ رہتے ہیں۔ مگر موجودہ سفر میں وہ تقریباً صحیح وقت پر پہنچا۔ اس دنیا میں ہر عموم میں استثناء ہے اور ہر استثناء میں عموم۔

لیبیا کے پاس دولت کی افراط ہے، اس کے باوجود لیبین ایر لائنز خستہ حالت میں ہے۔ اس کے پاس جہازوں کی بے حد کمی ہے۔ موجودہ جہاز پرانے ہو چکے ہیں۔ فاضل پرزے نہ ہونے کی وجہ سے ان کی مرمت سخت مشکل ہو رہی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ امریکہ نے لیبیا کو جہازوں کی سپلائی بند کر دی ہے۔ دوسری طرف خلیج کی ہوائی کمپنیاں نہایت اچھی حالت میں ہیں۔ کیونکہ امریکا ان کے اوپر اپنی مشینی عنایتیں جاری کئے ہوئے ہے۔

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے جو مسائل ہیں، ان کا سبب اغیار کا ظلم و تعصب نہیں ۔ اس کا اصل سبب مسلمانوں کی یہی پس ماندگی ہے۔ موجودہ مسلمان ہر جگہ پانے کی حد (Receiving end) پر ہیں۔ اور جن لوگوں کا یہ حال ہو جائے ان کا انجام وہی ہو گا جو اس وقت ساری دنیا میں مسلمانوں کا ہو رہا ہے۔

موجودہ حالت یہ ہے کہ افغانستان میں امریکہ نے ہتھیار دیا تو اس کی مدد سے افغانی مجاہدین نے روسیوں کو ملک سے نکل جانے پر مجبور کر دیا۔ فلسطین میں امریکہ مدد نہیں کر رہا ہے تو وہاں عرب مجاہدین اور سارا عالم اسلام نصف صدی سے بالکل عاجز ثابت ہو رہا ہے۔ پاکستان کو امریکہ نے اپنی سرپرستی میں لے رکھا ہے تو وہاں خوش حالی ہے۔ بنگلہ دیش کو امریکہ نے نظر انداز کر دیا تو وہ بد ترین بد حالی کی تصویر بن رہا ہے۔ مسلمان اس وقت ساری دنیا میں " حبل من الناس " کے تحت جی رہے ہیں نہ کہ " حبل من الله " کے تحت (آل عمران ۱۱۲)

۲۴ ستمبر ۱۹۸۹ کو میں طرابلس پہنچا۔ یہاں میرا قیام فندق باب البحر (کمرہ ۹۳۰) میں تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1990 All issues

Printed page