آسان حل
الرسالہ، اگست ۱۹۹۰، صفحہ ۲۸
ہاتھ میں تلوار اٹھائے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ دونوں سکھ ایم پی، مسٹر سمرن جیت سنگھ مان اور مسٹر دمن سنگھ ہیں جو پنجاب سے اکالی دل کے ٹکٹ پر ایم پی منتخب ہوئے ہیں۔
خبر میں بتایا گیا ہے کہ دونوں سکھ ایم پی ۴ اپریل کو پارلیمنٹ (لوک سبھا) پہنچے تا کہ حلف برداری کی رسم ادا کر سکیں۔ لوک سبھا کے اسپیکر سرین بی رسے کی ہدایت پر واچ اینڈ وارڈ کے اسٹاف نے دونوں صاحبان کو گیٹ نمبر ایک پر روک لیا اور ان کو اندر جانے نہیں دیا۔ نامہ نگار کے الفاظ میں، وہ پارلیمنٹ ہاؤس میں داخل ہونے سے روک دئے گئے۔ کیونکہ کہ ان کا اصرار تھا کہ وہ اپنی لمبی تلوار کے ساتھ اندر جائیں گے :
They were barred from entering parliament house for their insistence on carrying their long sword to take the oath. سکھ ممبران نے اس کے خلاف پارلی منٹ کے سامنے دھرنا دیا۔ مذکورہ تصویر اسی دھرنا کے وقت لی گئی تھی۔
سکھ لوگ اپنے مذہب کی رو سے اس کو ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے ساتھ تلوار (کرپان) رکھیں. تلوار ان کے لئے مذہبی نشان (religious emblem) کی حیثیت رکھتی ہے۔ سکھوں میں سے جو لوگ تلوار اپنے ساتھ رکھتے ہیں، وہ صدیوں کے رواج کے مطابق اس کو اتنا ضروری سمجھتے ہیں کہ تلوار کو چھوڑ نا ان کے نزدیک ایسا ہی ہے جیسے خود مذہب کو چھوڑ دینا۔ اس لئے ان کو اس پر آمادہ کرنا بے حد مشکل ہے کہ وہ اپنے ساتھ تلوار نہ رکھیں ۔
قدیم زمانہ میں اس مذہبی رواج کی اہمیت تھی مگر اب یہ رواج غیر ضروری بن چکا ہے۔ اسی کے ساتھ وہ زمانہ کی اسپرٹ کے خلاف بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سکھ حضرات کے ساتھ بار بار یہ مسئلہ مختلف صورتوں میں پیش آ رہا ہے۔ ایسے سکھ بھائیوں کو بہت سے لوگ اس نظر سے دیکھتے ہیں جیسے کہ آج کی دنیا میں وہ غیر موزوں (misfit) ہو گئے ہوں۔
اب اس مسئلہ کا ایک قابل عمل حل یہ ہے کہ سکھ بھائی مذکورہ اصول کو اپنے لئے اختیار کر لیں۔ یعنی وہ اس پر راضی ہو جائیں کہ آئندہ وہ حقیقی تلوار کے بجائے علامتی تلوار کا استعمال کریں گے۔ مسیحی حضرات اس اصول کو پہلے ہی اختیار کر چکے ہیں۔ ان کے عقیدہ کے مطابق، مسیح علیہ السلام ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1990 All issues