Al-Risala · January 1990 · page 38

Islam in 21st century

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۰، صفحہ ۳۸

ہوٹل میں سب سے پہلی چیز جو پڑھنے کو ملی وہ اخبار الدعوة اللامیہ (۲۰ ستمبر ۱۹۸۹) تھا۔ اس میں پہلے صفحہ پر ایک خبر تھی۔ یہ خبر فنانشل ٹائمنز سے نقل کی گئی تھی۔ لندن کے اس اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ انڈونیشیا میں بڑی تعداد میں غیر مسلم افراد اسلام قبول کر رہے ہیں۔ مسیحی مبلغین کی زبردست مخالفانہ کوشش کے باوجود وہاں اس اسلام میں داخل ہونے والوں کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے۔ فنانشل ٹائمنز نے لکھا تھا کہ وہاں اس طرح اسلام کی اشاعت کی وجہ یہ ہے کہ اسلام زندگی کی تمام مانگوں کی تکمیل کرتا ہے:

The reason for such increase, is that Islam fulfills all requirements of life. ہر سچا مذہب ابتدا از انھیں صفات کا حامل تھا جو آج اسلام میں پائی جاتی ہیں۔ مگر تحریف اور تبدیلی کے نتیجہ میں اب یہ تمام صفات صرف اسلام میں رہ گئی ہیں۔ دوسرے مذاہب کو انسان کی تحریفات نے ان صفات سے محروم کر دیا۔ لوگوں پر اگر یہ بات واضح ہو جائے تو وہ اسلام کی طرف آنے کو تبد یلیٔ مذہب نہ سمجھیں ۔ بلکہ اس کو خود اپنے ہی اصل مذہب کی طرف واپسی کے ہم معنی قرار دیں۔

سفر کے لئے روانگی سے ایک دن پہلے دہلی میں ہفت روزہ الجمعیۃ (۲۲ ستمبر ۱۹۸۹) دیکھا۔ اس کی ایک سرخی تھی : قذافی کے رویہ میں حیرت ناک تبدیلی ۔ مضمون میں بتایا گیا تھا کہ اب ایک سال سے معمر قذافی اپنی پالیسیوں میں زبردست تغیر کرتے جا رہے ہیں۔ انھوں نے اب امن اور مصالحت اور دوستی کی راہ اپنائی ہے۔ اس قسم کی باتوں کی وجہ سے عرب ملکوں کے ساتھ قذافی کے تعلقات میں سدھار آیا ہے۔ اور لوگوں کی طرف سے عام طور پر مثبت رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے (صفحہ ۲)۔ یہ ”تبدیلی“ لیبیا کے سفر میں مختلف اعتبار سے محسوس ہوئی۔ اس کو جوش سے ہوش کی طرف واپسی کہا جا سکتا ہے۔ پہلی عالمی جنگ تک ترکی عالم عرب کا قائد تھا۔ عثمانی خلافت کے خاتمہ کے بعد کچھ لوگوں نے ناکام طور پر اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کی۔ جمال عبدالناصر کا عالم عرب کا قائد بننے کا خواب نہ صرف بے تعبیر رہا بلکہ انھوں نے عرب دنیا کی بربادی میں مزید اضافہ کیا۔ اس کے بعد آیات اللہ خمینی اسی خوش فہمی میں مبتلا ہوئے۔ گر انھوں نے بھی اپنے پیچھے بربادی کے سوا کوئی تاریخ نہیں چھوڑی۔ بظاہر

‹ Previous page Next page › Contents of January 1990 All issues

Printed page