سفرنامہ ۔ قسط ۳
الرسالہ، اگست ۱۹۹۰، صفحہ ۳۰
سفرنامہ ۔ قسط ۳
ایک خبر میں بتایا گیا تھا کہ فرانس میں حال میں ایک کتاب چھپی ہے جس کا نام اسلام اور فرانس (de I'Islam en France) ہے۔ اس کتاب کے مصنف ایک فرانسیسی بران تیان (Brand Tiyan) ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ فرانس میں اسلام اٹھارویں صدی عیسوی میں داخل ہوا۔ اب فرانس میں مسلمانوں کی تعداد ایک ملین سے زیادہ ہو چکی ہے۔ اس نے مزید لکھا ہے کہ اسلام کے خلاف چرچ کا پروپیگنڈہ اب بعد از وقت ہو چکا ہے۔ اب ضرورت ہے کہ فرانس کے اسکولوں اور کالجوں میں اسلام کو داخل نصاب کیا جائے اور ریڈیو اور ٹیلیویژن کے ذریعہ اسلام کا صحیح تعارف کرایا جائے۔
یہاں ایک عربی کتاب دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس کے مصنف کا نام فہمی حدیدی ہے۔ کتاب کا نام القرآن والسلطان ہے۔ وہ دار الشروق بیروت سے ۱۹۸۱ میں چھپی ہے اور ۴۴۴ صفحات پر مشتمل ہے۔ مصنف لکھتے ہیں، غاية الامر ان المسلمين يسمون امة الاجابة وغيرهم يسمون امة الدعوة (۱۸۹) یعنی اصل حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کو امت اجابت کہا گیا ہے اور ان کے علاوہ کو امت دعوت۔
مسلمانوں اور دوسری قوموں کے درمیان یہی اصل تقسیم ہے۔ بقیہ تمام تقسیمات اضافی ہیں۔ مثلاً "دار الحرب" کی اصطلاح اضافی حالت کو بتاتی ہے نہ کہ مستقل حالت کو۔ عام حالات میں تمام غیر مسلم قومیں مسلمانوں کے لئے امت دعوت کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یعنی ان کے سلسلہ میں مسلمانوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ان کے اوپر اسلام کا پیغام پہنچائیں۔ البتہ اگر کوئی قوم یک طرفہ طور پر مسلمانوں پر حملہ کر دے، اور اعراض اور صبر کی تمام تدبیروں کے باوجود جنگ سے بچنے کی کوئی صورت باقی نہ رہے تو اس وقت اہل اسلام بطور دفاع جنگ کریں گے۔
ایک عرب نوجوان نے بتایا کہ ان کی شادی حال میں ایک عرب خاتون سے ہوئی ہے۔ عرب نوجوان نے اپنی تعلیم یافتہ اہلیہ کو راقم الحروف کے کچھ مضامین پڑھنے کے لئے دئے۔ ان مضامین میں اسلام کی سیاسی تعبیر پر اور اسلام کے نام پر سیاسی تحریکیں چلانے والوں پر تنقید تھی ۔ خاتون الاخوان المسلمون کے طرز فکر سے متاثر تھیں۔ چنانچہ انھوں نے راقم الحروف کے مضامین کو پھاڑ کر پھینک دیا۔ تاہم مذکورہ عرب نوجوان ان کو میری تحریریں پڑھانے کی کوشش کرتے رہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1990 All issues