Al-Risala · August 1990 · page 31

سفرنامہ ۔ قسط ۳

الرسالہ، اگست ۱۹۹۰، صفحہ ۳۱

انہوں نے بتایا کہ اب ان کی اہپیہ کا ذہن بالکل بدل گیا ہے ۔ اور اسلامی مرکز کے فکر سے مکمل اتفاق کر رہی ہیں ۔

کچھ عربوں نے یہ تجویز پیش کی کہ تعلیم یافتہ عرب خواتین کا ایک اجتماع کیا جائے اور میں انہیں خطاب کروں ۔ میں نے منع کر دیا ۔ میں نے کہا کہ میں اپنے ملک میں بھی خواتین کے اجتماعات کو خطاب کرنا پسند نہیں کرتا ۔ اب تک میری عام پالیسی یہی ہے ۔

" خواتین کا اجتماع " موجودہ صورت میں مجھے اسلامی روح کے مطابق نظر نہیں آتا ۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین سے خطاب کرنے کی مثال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تو ملتی ہے ، مگر صحابہ کرام کے یہاں نہیں ملتی ۔ مجھے اب تک اس کی مثالیں نہیں ملی ہیں کہ صحابہ عورتوں کا اجتماع کر کے ان سے خطاب کرتے ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں اس کی مثال ملنا اور صحابہ کے یہاں اس کی مثال نہ ملنا ظاہر کرتا ہے کہ یہ طریقہ صرف پیغمبر کے لئے خاص تھا ، بعد کے لوگوں کو ایسا کرنا مناسب نہیں ۔ بعد کے لوگوں کے لئے یہ ہے کہ وہ مردوں میں کام کریں اور مرد اپنے اپنے گھروں میں اپنی خواتین پر کام کریں ۔

اس قسم کا فرق دوسرے امور میں بھی پایا جاتا ہے ۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے بیعت ایمان لیتے تھے ۔ مگر صحابہ و تابعین نے بیعت ایمان نہیں لی ۔ وہ صرف کلمہ شہادت پڑھا کر لوگوں کو اسلام میں داخل کرتے تھے ۔

۲۳ مارچ ۱۹۹۰ کو طرابلس سے واپسی ہوئی ۔ طرابلس سے کراچی تک کا سفر لی آئی اے کی فلائٹ ۷۱۴ کے ذریعے ہوا ۔ راستہ میں اخبار جسارت ( ۲۳ مارچ ۱۹۹۰) پڑھا ۔ یہ اخبار جماعت اسلامی کے فکر کی نمائندگی کرتا ہے ۔ اس کے صفحہ اول پر ۲۳ مارچ (یوم پاکستان کی مناسبت سے مینار پاکستان کے پاس ہونے والے ایک جلسہ کا اعلان تھا ۔ جلی حرفوں میں یہ الفاظ چھپے ہوئے تھے : اب لینا ہے کشمیر ، ٹوٹے شملہ کی زنجیر پاکستانی کشمیر کے مسلمان شملہ معاہدہ کو زنجیر بنا کر اس کو توڑنے کا نعرہ لگا رہے ہیں ۔ دوسری طرف ہندوستانی کشمیر کے مسلمان شیخ عبداللہ کو غدار ٹھہرا کر ان کا گھر جلا رہے ہیں اور ان کی قبر کھودنے پر تلے ہوئے ہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1990 All issues

Printed page