Al-Risala · September 1990 · page 24

انتقام نہیں

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۲۴

انتقام نہیں

کسی کا قول ہے ــــــ "انتقام لینے سے پہلے سوچ لو کہ انتقام کا بھی انتقام لیا جائے گا۔ " یہ زندگی کی نہایت گہری حقیقت ہے۔ اور اس حقیقت کو سمجھنے کے بعد ہی کوئی شخص موجودہ دنیا میں اپنے لئے کامیاب زندگی بنا سکتا ہے۔

ایک شخص سے آپ کو تکلیف پہنچی۔ آپ کے دل میں اس کے خلاف انتقام لینے کا جذبہ بھڑک اٹھا۔ آپ چاہنے لگے کہ اس سے بدلہ لے کر اپنے سینہ کی آگ ٹھنڈی کریں۔ مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک شخص کے تکلیف دینے سے آپ کے اندر انتقام کا جذبہ بھڑک اٹھا، پھر وہی تکلیف جب آپ اس شخص کو دیں گے تو کیا اس کے اندر دوبارہ انتقام کا جذبہ نہیں بھڑکے گا۔ یقیناً ایسا ہی ہوگا۔ اور پھر برائی کا ایک چکر چل پڑے گا۔ آپ کو ایک تکلیف کے بعد دوسری تکلیف سہنی پڑے گی۔ اس لئے عقلمندی یہ ہے کہ نظر انداز کرنے کا طریقہ اختیار کرکے بات کو پہلے ہی مرحلہ میں ختم کر دیا جائے۔ میری ملاقات ایک بار یوپی کے ایک شخص سے ہوئی ۔ اس نے ایک نیتا کی شرکت میں ایک بس خریدی، اس آدمی نے پیسہ لگایا۔ اور نیتا نے لائسنس حاصل کیا۔ لائسنس قانونی طور پر نیتا کے نام تھا۔ مگر نفع میں دونوں برابر کے شریک تھے۔

کچھ دنوں کے بعد نیتا کی نیت بگڑی۔ اس نے سوچا کہ قانونی طور پر گاڑی میری ہے کیوں کہ لائسنس میرے نام ہے۔ پھر میں اس کا نفع دوسرے کو کیوں دوں۔ اس نے یک طرفہ طور پر گاڑی پر قبضہ کر لیا۔ اب آدمی بہت غصہ ہوا۔ اس کے اندر انتقام کی آگ بھڑک اٹھی۔ اس نے ارادہ کیا کہ نیتا کو قتل کر ڈالے چنانچہ وہ اس کے قتل کا منصوبہ بنانے لگا۔ اس دوران اس کی ملاقات ایک بوڑھے تجربہ کار آدمی سے ہوئی۔ حالات سننے کے بعد بوڑھے آدمی نے کہا کہ اگر تم اپنے منصوبہ کے مطابق نیتا کو مار ڈالو تو اس کے بعد اس کے بچے کیا تم کو زندہ چھوڑ دیں گے۔

یہ بات آدمی کی سمجھ میں آگئی۔ اس نے نیتا کو مارنے کا ارادہ چھوڑ دیا۔ اس کے بجائے اس نے یہ کیا کہ اس کے پاس جو رقم اب بھی باقی تھی اس سے چھوٹے پیمانے پر بزنس شروع کر دیا۔ چند سال بعد جب اس آدمی سے میری ملاقات ہوئی تو اس نے کہا کہ میں بہت خوش ہوں۔ بس کی شرکت سے میں جتنا

‹ Previous page Next page › Contents of September 1990 All issues

Printed page