انتقام نہیں
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۲۵
کما تا، اب میں اس سے زیادہ کما رہا ہوں۔ اور میرا کاروبار برابر ترقی کر رہا ہے۔ جب بھی آپ کے سینہ میں کسی کے خلاف انتقام کی آگ بھڑکے تو اپنے ذہن کو ٹھنڈا کر کے سب سے پہلے یہ سوچئے کہ میرا فائدہ انتقام لینے میں ہے یا انتقام نہ لینے میں۔ ظاہر ہے کہ دوسرے کو نقصان پہنچا نا بذات خود کوئی مقصد نہیں۔ اصل مقصد جو ہر آدمی اپنے سامنے رکھتا ہے یا اس کو رکھنا چاہئے ، وہ اپنے آپ کو فائدہ پہنچانا ہے۔ اگر دوسرے کو نقصان پہنچانے کا نتیجہ یہ ہو کہ آخر میں آپ کو خود اس سے بڑا نقصان اٹھا نا پڑے، تو ایسی حالت میں عقلمندی کیا ہے۔ اگر آپ ٹھنڈے دماغ سے سوچیں تو آپ یہ ماننے پر مجبور ہوں گے کہ ایسی کارروائی جو آخر میں خود اپنے خلاف پڑنے والی ہو، وہ کسی بھی حال میں صحیح نہیں کہی جا سکتی۔ ایسی ہر کارروائی صرف بے وقوفی ہے نہ کہ وہ کام جو ایک عقلمند آدمی کو کرنا چاہئے۔
ہمارے سماج میں جو جھگڑے ہیں اور عدالتوں میں جو مقدمات کی بھر مار ہے وہ سب اسی انتقامی جذبہ کا نتیجہ ہے۔ لوگ شکایت یا تکلیف کی کوئی بات پیش آنے کے بعد اس کو بھلا نہیں پاتے۔ وہ فوراً رد عمل کا شکار ہو جاتے ہیں اور جوابی کارروائی کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس طرح جوجھگڑے اور مقدمے بڑھتے ہیں اس کا نقصان صرف فریق ثانی کو نہیں پہنچتا بلکہ اس شخص کو بھی پہنچتا ہے جس نے جوابی کارروائی کرکے دوسرے کے خلاف بدلہ لینا چاہا تھا۔ ہر آدمی سکون کی زندگی چاہتا ہے۔ ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ اس کا سماج امن و امان کا سماج ہو۔ یہ مقصد اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب کہ لوگوں کے اندر بدلہ نہ لینے کا مزاج پیدا ہو جائے ۔ یہی ہمارے مسئلے کا واحد حل ہے۔ اسی سے ہر آدمی کو ذاتی سکون حاصل ہو سکتا ہے ۔ اور پورا سماج بھی اسی کے ذریعہ امن و امان کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
جب بھی آپ کسی سے انتقام لیں تو انتقام لینے میں آپ اپنی طاقت خرچ کرتے ہیں۔ وقت اور پیسہ کی کافی مقدار خرچ کئے بغیر کوئی شخص دوسرے سے انتقام نہیں لے سکتا۔ اگر بالفرض آدمی انتقام لینے میں کامیاب ہو جائے تب بھی انتقام لے کر اس کو جو چیز حاصل ہوتی ہے وہ صرف ایک نفسیاتی تسکین ہے۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔
لیکن یہی وقت اور یہی رقم اگر کسی مثبت چیز کو حاصل کرنے میں لگا دیا جائے تو وہ نفع کے ساتھ
‹ Previous page Next page › Contents of September 1990 All issues