انتقام نہیں
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۲۶
آدمى کی طرف لوٹتا ہے، جیسا کہ مذکورہ شخص کے ساتھ پیش آیا۔ انتقام لینے میں طاقت کو خرچ کرنا طاقت کو کھونا ہے، اور ایک مثبت کام میں طاقت لگانا ، طاقت کو مزید اضافہ کے ساتھ دوبارہ پا لینا ہے۔ ایسی حالت میں یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ عقل مند آدمی کو دونوں میں کون سا طریقہ اختیار کرنا چاہئے ۔ حقیقت پسندی کسی کا قول ہے کہ " اپنے حق سے زیادہ چاہنا اپنے آپ کو اپنے واقعی حق سے بھی محروم کر لینا ہے۔ " کوئی آدمی جب اتنا ہی چاہے جس کا وہ واقعی طور پر حق دار ہے تو ہر چیز اس کی مانگ کی تصدیق کر رہی ہوتی ہے۔ اور جب وہ اپنے واقعی حق سے زیادہ چاہنے لگے تو ہر چیز اس کے خلاف ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلا آدمی ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے۔ اور دوسرا آدمی ہمیشہ ناکام۔ ایک بڑا ادارہ تھا۔ اس میں ایک منیجر کی ضرورت تھی۔ ایک آدمی کے اندر انتظامی صلاحیت تھی ۔ چنانچہ اس آدمی کو وہاں منیجر کی حیثیت سے رکھ لیا گیا ۔ ادارے کے ڈائرکٹر نے منیجر کے ساتھ کافی رعایت کا معاملہ کیا۔ معقول تنخواہ ، رہنے کے لئے مکان ، آنے جانے کے لئے ایک جیپ ، اور دوسری کئی چیزیں انہیں حاصل ہوگئیں۔
مگر کچھ دنوں کے بعد اس آدمی کے ذہن میں زیادہ کی حرص پیدا ہوگئی۔ " منیجر " کی حیثیت اس کو کم لگی ، اس نے چاہا کہ ڈائرکٹر کی سیٹ پر قبضہ کرلے۔ اب منیجر نے چپکے چپکے ڈائرکٹر کے خلاف منصوبہ بنایا۔ مگر منصوبہ کی کامیابی سے پہلے ڈائرکٹر کو اس کی خبر ہوگئی ۔ اس نے فوری کارروائی کرکے اس آدمی کو منیجر کی پوسٹ سے ہٹا دیا۔ مکان اور جیپ وغیرہ بھی چھین لی گئی۔ ان کو ذلت کے ساتھ ادارہ سے باہر نکال دیا گیا۔
یہ وہی چیز ہے جس کو اخلاقی زبان میں قناعت اور حرص کہا جاتا ہے۔ اپنی واقعی حیثیت پر راضی رہنے کا نام قناعت ہے۔ اور اپنی حیثیت سے زیادہ چاہنے کا نام حرص ۔ مذکورہ آدمی اگر قناعت کا طریقہ اختیار کرتا تو وہ نہ صرف کامیاب رہتا بلکہ مزید ترقی کرتا۔ مگر حرص کا طریقہ اختیار کرکے اس نے اپنے پائے ہوئے کو بھی کھو دیا ، اور آئندہ جو کچھ وہ پاسکتا تھا اس کو بھی۔
جب آپ اپنے حق کے بقدر چاہتے ہیں تو آپ وہ چیز چاہ رہے ہوتے ہیں جو واقعۃ آپ کی ہے ، جو از روئے انصاف آپ ہی کو ملنا چاہئے۔ مگر جب آپ اپنے واقعی حق سے زیادہ چاہیں تو گویا آپ ایسی چیز
‹ Previous page Next page › Contents of September 1990 All issues