Al-Risala · September 1990 · page 27

انتقام نہیں

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۲۷

چاہ رہے ہیں جو ازروئے انصاف آپ کی چیز دلیل ہے، بلکہ دوسرے کی چیز ہے۔ پھر دوسرا شخص کیوں آپ کو اپنی چیز دینے پر راضی ہو جائے گا۔

جب بھی آدمی اپنے حق سے زیادہ چاہے تو فوراً اُس کا ٹکراؤ دوسروں سے شروع ہو جاتا ہے۔ دوسرے لوگ اس کی راہ میں رکاوٹ بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اب کش مکش اور ضد اور مزاحمت وجود میں آتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے حریف بن جاتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اصل سے زیادہ کی طلب میں اصل کو بھی کھو بیٹھتا ہے۔

اپنے حق سے زیادہ کی طلب کرتے ہی یہ ہوتا ہے کہ آدمی تضاد میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ دو اپنے حصہ کی چیز لینے کے لئے ایک نہیں دیتا ہے، اور دوسرے کے حصہ کی چیز پر قبضہ کرنے کے لئے دوسری دلیل استعمال کرتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے مقدمہ کو خود ہی کمزور کر لیتا ہے۔ وہ اپنی نفی آپ کر دیتا ہے۔ وہ قسم کی دلیلوں سے وہ ثابت کرتا ہے کہ پہلی چیز اگر اس کی ہے تو دوسری چیز اس کی نہیں ہے، اور اگر دوسری چیز اس کی ہے تو پہلی چیز اس کی نہیں ہو سکتی۔

ایسے آدمی کے اوپر وہ مثال صادق آتی ہے کہ جو شخص دو خرگوشوں کے پیچھے دوڑے وہ ایک کو بھی پکڑ نہیں سکتا۔ اسی طرح جو شخص اپنے اصل حق کے ساتھ مزید کا طالب بنے ، وہ اصل کو بھی کھو دے گا اور اسی کے ساتھ مزید کو بھی۔

ہر آدمی جو دنیا میں پیدا ہوتا ہے وہ خاص صلاحیت لے کر پیدا ہوتا ہے۔ ہر آدمی کو اس کے پیدا کرنے والے نے اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ ایک کامیاب زندگی حاصل کرے۔ مگر ہر آدمی کی ایک حد ہے۔ اور ہر آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنی حد کو جانے۔ جب آدمی اپنی حد کے اندر رہے تو دنیا کی تمام طاقتیں اس کو کامیاب بنانے کے لئے اس کی پشت پر آ جاتی ہیں اور جب وہ اپنی حد سے آگے بڑھنے لگے تو ہر چیز اس کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔ ایسے آدمی کے لئے ناکامی کے سوا کوئی اور انجام اس دنیا میں مقدر نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1990 All issues

Printed page