تربیتی ضمیمہ
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۰، صفحہ ۲۴
ایک تقابل
لارڈ میکالے (T.B. Macaulay) ۱۸۳۴ میں ہندوستان آیا۔ سپریم کونسل آف انڈیا کے ایک اہم ممبر کی حیثیت سے اس نے وہ تعلیمی نظام شروع کیا جو بالآخر "انگریزی نظام تعلیم" کے نام سے پورے ملک میں رائج ہو گیا۔ اس نظام تعلیم کا مقصد ، میکالے کے الفاظ میں یہ تھا کہ ، اس کے ذریعہ سے ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو پیدائش کے اعتبار سے ہندوستانی مگر خیالات کے اعتبار سے انگریز ہو :
So that a generation may arise which will be Indian in birth and English in thought. مسلمانوں کے تمام بے ریش اور باریش لیڈر (سر سید کے واحد استثناء کو چھوڑ کر) اس نظام تعلیم کے خلاف ہو گئے ۔ وہ اس کی مخالفت میں تقریر کرنے لگے۔ کسی نے اس کو "قتل گاہ" کہا۔ کسی نے اس کے اوپر یہ شعر چسپاں کیا :
بچوں کے کبھی قتل سے بد نام نہ ہوتا افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی بیشتر لوگوں نے اس تعلیمی نظام میں شرکت نہیں کی۔ جو لوگ اس میں داخل ہو گئے تھے وہ درمیان ہی میں اس کو چھوڑ کر اس سے الگ ہو گئے۔ اس مخالفانہ پالیسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان تعلیم کے میدان میں دوسری قوموں سے کم از کم دو سو سال پیچھے ہو گئے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے تمام مسائل کی جڑ ان کی یہی پسماندگی ہے۔ کیوں کہ تعلیم سے محرومی آدمی کو بے شعور بناتی ہے ۔ اور جو لوگ بے شعور ہوں ، اس دنیا میں ان کے لیے بربادی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں ۔ اب ایک اور تصویر دیکھئے ۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد ۱۹۴۵ میں جاپان کو امریکہ کے مقابلہ میں شکست ہوگئی۔ اس کے بعد امریکہ سیاسی ، فوجی ، انتظامی ، ہر اعتبار سے جاپان پر قابض ہوگیا۔ اس شکست کے بعد جاپان نے اپنے آپ کو مکمل طور پر امریکہ کی ماتحتی میں پایا۔ امریکہ نے اس کے بعد جبری طور پر جاپان کو غیر مسلح کر دیا۔ جاپان کے نظام تعلیم میں انقلابی تبدیلیاں لائی گئیں ۔ دسمبر ۱۹۴۵ میں امریکی جنرل میکار تھر نے تعلیمی انتظام کے متعلق وہ بنیادی ہدایات
‹ Previous page Next page › Contents of October 1990 All issues