تربیتی ضمیمہ
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۰، صفحہ ۲۵
جاری کیں جن کا خاص مقصد جاپان میں عسکریت کو اور جاپانی عوام کے قوم پرستانہ مزاج کو ختم کرنا تھا ۔
جنگ کے زمانہ کے بہت سے ٹیچر ملازمت سے سبک دوش کر دیے گئے ۔ مذہب اور سیاست کو مکمل طور پر ایک دوسرے سے الگ کر دیا گیا۔ شنٹو تعلیمات کو نصاب سے خارج قرار دیا گیا۔ ان تبدیلیوں کا مقصد یہ تھاکہ جاپان کی جدید نسل کو امریکہ کی پسند کے مطابق بنایا جائے ۔ ۱۹۴۶ میں امریکہ کے تعلیمی ماہرین کی ایک ٹیم باقاعدہ منصوبہ کے تحت جاپان پہنچی ۔ اس امریکی ٹیم نے ایک رپورٹ تیار کی جس کا نام حسب ذیل تھا :
Report of the United States Education Mission to Japan یہ رپورٹ گویا ان ہدایات کی عملی تفصیل تھی جن کو جنرل میکار تھر نے جاپان کی وزارتِ تعلیم کے نام جاپان کے مقتدرِ اعلیٰ کی حیثیت سے جاری کیا تھا۔ ۱۹۴۷ میں جاپان کا بنیادی تعلیمی قانون اور اسکول تعلیم کا قانون اسی کی مطابقت میں وضع کیا گیا۔ ۱۹۴۸ میں جاپان کا تعلیمی بورڈ بنایا گیا جس کا کام گویا اس بات کی نگرانی کرنا تھا کہ جاپان کا تعلیمی نظام امریکہ کی پسند کے مطابق جاری رہے ۔ اس طرح جاپان میں اسکول ، کالج اور یونیورسٹی کی سطحوں پر جو تعلیمی نظام رائج ہوا وہ مکمل طور پر اس نظام کی نقل تھی جو امریکہ میں پہلے سے چل رہا تھا ۔ جاپانیوں نے ، ہندوستان کے مسلم رہنماؤں کے برعکس ، امریکہ کے اس منصوبہ کو تعلیمی استعمار بتا کر اس کے خلاف احتجاج اور بائیکاٹ کی تحریک نہیں چلائی ۔ انھوں نے ایک دن ضائع کیے بغیر اپنی پوری نسل کو اس ” امریکی تعلیمی نظام “ میں داخل کر دیا۔ اب اس واقعہ پر تقریباً نصف صدی پوری ہورہی ہے۔ اس کا جو نتیجہ ہو اوہ ساری دنیا کے سامنے ہے۔ امریکہ کے اس تعلیمی نظام میں پڑھ کر جو لوگ نکلے ، وہ پورے معنوں میں جاپانی نہ سکتے ۔ وہ کسی بھی اعتبار سے ” امریکی “ نہ بن سکے ۔ جیسا کہ امریکہ انہیں بنانا چاہتا تھا۔ حتی کہ انھوں نے امریکہ کی تمام امیدوں کے خلاف ، جاپان میں ایک نیا انقلاب برپا کر دیا۔ انھوں نے جاپان کی ایک نئی تاریخ پیدا کر دی ۔ انھوں نے ترقی کا ایک ایسا سیلاب جاری کیا جس کے بہاؤ میں خود امریکہ بھی ٹھہر نہ سکا ۔ انھوں نے جاپان کو دنیا کی قوموں کے درمیان
‹ Previous page Next page › Contents of October 1990 All issues