Al-Risala · October 1990 · page 44

ایک سبق

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۰، صفحہ ۴۴

ایک سبق

"اللہ تعالیٰ ہی کو مقدم کرو اور دین کو دنیا پر ترجیح دو۔ جب تک انسان اپنے اندر دنیا کا کوئی حصہ بھی پاتا ہے وہ یاد رکھے کہ ابھی وہ اس قابل نہیں کہ دین کا نام بھی لے۔ یہ ایک غلطی لوگوں کو لگی ہوئی ہے کہ دنیا کے بغیر دین حاصل نہیں ہوتا۔ انبیاء علیہم السلام جب دنیا میں آئے ہیں، کیا انھوں نے دنیا کے لئے سعی اور مجاہدہ کیا ہے یا دین کے لئے؟ اور باوجود اس کے کہ ان کی ساری توجہ اور کوشش دین ہی کے لئے ہوتی ہے پھر کیا وہ دنیا میں نامراد رہے۔ کبھی نہیں، دنیا خود ان کے قدموں پر آکر گری۔ یہ یقیناً سمجھو کہ انھوں نے دنیا کو گو یا طلاق دے دی تھی۔ لیکن یہ ایک عام قانون قدرت ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں وہ دنیا کو ترک کرتے ہیں۔ اس سے یہ مراد ہے کہ وہ دنیا کو اپنا مقصود اور غایت نہیں ٹھہراتے۔ اور دنیا ان کی خادم اور غلام ہو جاتی ہے۔ جو لوگ برخلاف اس کے دنیا کو اپنا اصل مقصود ٹھہراتے ہیں خواہ وہ دنیا کو کسی قدر بھی حاصل کریں مگر آخر ذلیل ہوتے ہیں۔ سچی خوشی اور اطمینان اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے عطا ہوتا ہے۔ یہ مجرد دنیا کے حصول پر منحصر نہیں ہے۔ " (ملفوظات جلد ہفتم صفحه ۳۱۶ - ۳۱۷)

اوپر جو عبارت نقل کی گئی، وہ ایک اقتباس ہے۔ اس کو پڑھئے۔ بظاہر یہ کسی مسلمان بزرگ کا کلام معلوم ہوتا ہے۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ یہ در اصل مرزا غلام احمد قادیانی کا ملفوظ ہے جو قادیان کے ہفت روزہ بدر ( ۳۱ مئی ۱۹۹۰) کے صفحہ اول پر چھپا ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کو تمام مسلم علماء نے متفقہ طور پر کافر قرار دیا ہے۔ اس کے باوجود ان کے " ملفوظات " میں ایسی باتیں ملتی ہیں جن کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے گو یا کہ وہ کسی سچے بزرگ کا کلام ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ صرف اچھا کلام اس بات کا ثبوت نہیں کہ اس کو کہنے والا اچھا انسان یا صحیح انسان بھی ضرور ہے۔ کسی انسان کو سمجھنے کے لئے اس کے پورے کلام اور اس کی پوری زندگی کو دیکھنا چاہئے نہ کہ صرف جزئی کلام یا جزئی زندگی کو۔ کسی انسان کے بارہ میں حکم لگانے کے لئے اس کی تقریر یا تحریر کا صرف ایک اقتباس کافی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1990 All issues

Printed page