ایک سبق
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۰، صفحہ ۴۵
برصغیر ہند میں مغل سلطنت کا خاتمہ اور وسیع تر عالم اسلام میں خلافت عثمانیہ کے زوال کے بعد ساری دنیا میں احیا ء کی تحریکیں اٹھ کھڑی ہوئیں۔ ان تحریکوں کا مشترک فکر یہ تھا کہہ " اسلام کا اقدامى جہاد ہے: یہ حالت سو سال سے زیادہ عرصہ تک جاری رہی۔ یہاں تک کہ ۱۹۷۲ میں الرسالہ جاری ہوا۔ اس نے پہلی بار یہ آواز بلند کی کہ " اسلام کا اقدامی دعوت ہے ۔ اس وقت یہ ایک تنہا آواز تھی۔ آج اللہ کے فضل سے ساری دنیا میں لاکھوں آدمی اس پیغام کی اہمیت کو سمجھ چکے ہیں۔ بہت جلد انشاء اللہ وہ وقت آنے والا ہے جبکہ یہی دعوتی فکر سارے عالم اسلام کا غالب فکر بن جائے ۔
۲ پچھلے ۵۰ سال سے ہندستانی مسلمانوں کو ایک ہی بات بتائی جارہی تھی۔ یہ کہ تمہاری محرومی دوسروں کے زیادتی اور تعصب کا نتیجہ ہے۔ الرسالہ نے پہلی بار بتا ناشروع کیا کہ یہ زندگی کی حقیقت ہے نہ کہ تعصب اور محنت اور تدبیر کے ذریعہ اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ اب وہ لوگ بھی اس واقعہ کا اعتراف کرنے لگے ہیں جو دوسروں کے ظلم و تعصب کے اعلان کے چیمپئن بنے ہوئے تھے۔ مثلاً مسٹر شہاب الدین اپنے روایتی فکر کو دہراتے ہوئے اب بھی کہ رہے ہیں کہ ۔ مگر محرومی زندگی کی ایک حقیقت ہے، صرف ہندستانی مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ ۸۵ فی صد عوام کے لئے بھی۔ اور صرف تعلیم میں نہیں بلکہ انسانی سرگرمیوں کے ہر میدان میں۔ اس لئے محدود مواقع میں مقابلہ کی صورت حال کے اندر مراعات یافتہ مفادات اور غالب طبقوں کے خلاف ایک مستقل چو کسی اور مسلسل جد و جہد کی ضرورت ہے : But deprivation is a fact of life and not only for Muslim Indians but for 85% of our people not only in education but in every field of human activity. So a constant vigil and a ceaseless struggle are called for in a situation of competition for scarce resources against vested interests and dominant groups. Muslim India, July 1990, p. 294. ۳ الرسالہ کا فکر خدا کے فضل سے اب اتنا غالب آچکا ہے کہ تقریبا تمام لوگ کسی نہ کسی طور پر اب اس کو دہرا رہے ہیں ۔ تا ہم اعتراف کی جرات نہ ہونے کی وجہ سے وہ الرسالہ کی بات کو اپنی بات بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ماہنامہ ریاض الجنۃ (مئی ۱۹۹۰) کا اداریہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 1990 All issues