Al-Risala · November 1990 · page 4

مقصدی کردار

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۰، صفحہ ۴

مقصدی کردار

۶ ستمبر ۱۹۹۰ء کو ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ رسیور اٹھایا تو دوسری طرف ایک خاتون انیتا پرتاپ (Anita Pratap) بول رہی تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ نئی دہلی میں وہ ٹائم میگزین (نیو یارک) کی اسپشل کرسپانڈنٹ ہیں۔ اور مجھ سے " اسلام میں عورت کا مقام “ کے مسئلہ پر معلومات حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ مقررہ وقت پر وہ دفتر میں آئیں ۔ ان کے پاس انگریزی کا ایک ٹائپ کیا ہوا آرٹیکل تھا۔ یہ اسلام میں عورت کی حیثیت کے بارہ میں تھا، اور اس کا عنوان تھا ــــــــ پردہ کے پیچھے : Behind the veil گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ یہ آرٹیکل ہمارے پاس ٹائم کے صدر دفتر نیو یارک سے آیا ہے۔ ہمارا میگزین ایک مضمون چھاپنا چاہتا ہے جس میں عورت کے بارہ میں اسلام کی تعلیمات بتائی جائیں گی۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے ہمارے صدر دفتر نے کچھ مسلم ملکوں میں ٹائم کے نمائندوں کو لکھا کہ وہ موضوع سے متعلق ضروری معلومات حاصل کر کے بھیجیں ۔ ان معلومات کو سامنے رکھ کر نیو یارک کے ایڈیٹر نے یہ آرٹیکل تیار کیا۔ اب اس آرٹیکل کو دوبارہ مختلف ملکوں میں ٹائم کے نمائندوں کے پاس بھیجا گیا ہے کہ وہ اپنے یہاں کے مستند علماء سے مل کر اس کے اندراجات کی جانچ کریں اور ان کی تصدیق یا تصحیح کر کے دوبارہ صدر دفتر (نیو یارک) کو بھیجیں ۔ ہماری ان ترمیمات کو سامنے رکھ کر نیو یارک کا ایڈیٹر آرٹیکل کو دوبارہ لکھے گا اور اس کے بعد اُس کو ٹائم میں چھاپا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اس طرح کی چیزوں میں ہمارا طریقہ " چیک اینڈ ری چیک “ کا ہوتا ہے۔

میں نے کہا کہ ایک مضمون کی تیاری میں آپ لوگ اتنا زیادہ محنت کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں خاتون کرسپاڈنٹ نے کہا کہ ہمارا میگزین (ٹائم انٹرنیشنل) ساری دنیا میں جاتا ہے اور ہر ملک اور ہر قوم میں پڑھا جاتا ہے۔ ایسی حالت میں ہم اس کا تحمل نہیں کر سکتے کہ ہم اس میں کوئی غلطی کریں : We can't afford to make any mistakes. ٹائم کے نمائندہ کا یہ جملہ بے حد سبق آموز ہے۔ ٹائم کا مقصد یہ ہے کہ وہ ساری دنیا میں اپنے پرچہ کے لیے خریدار حاصل کرے۔ اسی لیے اس کا نام ٹائم انٹرنیشنل رکھا گیا ہے۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے

‹ Previous page Next page › Contents of November 1990 All issues

Printed page