مقصدی کردار
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۰، صفحہ ۵
ضروری ہے کہ اس کا ہر شمارہ لوگوں کو غلطیوں سے خالی دکھائی دے۔ اگر لوگ محسوس کریں کہ اس کی رپورٹیں اور اس کی معلومات غلط ہوتی ہیں تو لوگ اس کی خریداری کی طرف مائل نہیں ہوں گے۔ ٹائم اپنے پرچہ کو ساری دنیا میں پھیلانے میں کامیاب نہ ہو سکے گا۔
ٹائم اپنے پرچہ کی غیر مقبولیت کا تحمل نہیں کر سکتا، اس لیے وہ اس کا تحمل بھی نہیں کر سکتا کہ وہ اپنے صفحات میں ایسی باتیں چھاپے جو غلط یا خلاف واقعہ ہوں ۔ اور نتیجہ لوگوں کو اس سے دور کر دینے کا سبب بن جائیں۔
یہی نفسیات زیادہ بڑے پیمانے پر دین کے داعی کی ہوتی ہے۔ داعی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ خدا کے دین کو خدا کے تمام بندوں کے لیے قابل قبول بنائے۔ اس مقصد کے پیش نظر داعی ہر ممکن تدبیر کے ذریعہ اس کا اہتمام کرتا ہے کہ اس کے اور مدعو کے درمیان ایسی کوئی بات پیش نہ آئے جو مدعو کو دین حق سے بیزار کر دے، جس کا نتیجہ اس صورت میں نکلے کہ خدا کا دین مدعو کو مشتبہ دکھائی دینے لگے، وہ مدعو کی نظر میں قابل قبول نہ رہے۔
اس مقصد کے لیے داعی ہر قسم کی غلطی سے بچنے کا مکمل اہتمام کرتا ہے۔ وہ مدعو کی پسندیدہ زبان (ابراہیم ۴) میں کلام کرتا ہے۔ وہ دین کو اس کے سامنے قول بلیغ (النساء ۶۳) کے اسلوب میں پیش کرتا ہے۔ وہ مدعو کی زیادتیوں پر یک طرفہ صبر (ابراہیم (۱۲) کرتا ہے۔ وہ تالیف قلب (التوبہ ۶۰) کے ذریعہ اس کے دل کو نرم کرتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو تمام اخلاقی کمزوریوں سے پاک (المدثر ﴿۴﴾) کرتا ہے۔ وہ آخری حد تک مدعو کا خیر خواہ (الاعراف ۷۹) بن جاتا ہے۔ حتیٰ کہ بعض اوقات وہ ایک صحیح اور جائز بات کے سلسلہ میں بھی مدعو کی ضد کو مان لیتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے حدیبیہ کے موقع پر مدعو کے اصرار پر لفظ "رسول اللہ" کو کاغذ سے مٹا دیا۔
ٹائم میگزین کے نمائندہ نے کہا کہ ہم غلطیوں کا تحمل نہیں کر سکتے۔ یہی بات ایک داعی کو مزید شدت کے ساتھ کہنا ہے۔ داعی کا احساس یہ ہونا چاہیے کہ میں ایسی کسی بات کا تحمل نہیں کر سکتا جو مدعو کو میرے پیغام سے دور کر دے۔ میں یک طرفہ طور پر یہ ذمہ داری لوں گا کہ مدعو کو اپنے پیغام حق کے بارہ میں بدظن نہ ہونے دوں۔ میں ہر اس قول یا فعل سے بچوں گا جو مدعو کے اندر مخالفانہ نفسیات پیدا کرے اور میری بات کو اس کے لیے ناقابل قبول بنا دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1990 All issues