Al-Risala · November 1990 · page 6

زیادہ بڑی واپسی

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۰، صفحہ ۶

زیادہ بڑی واپسی

ڈاکٹر گوپال سنگھ ۲۹ نومبر ۱۹۱۷ء کو ایبٹ آباد میں پیدا ہوئے۔ ۸ اگست ۱۹۹۰ کونئی دہلی میں ان کا انتقال ہوا۔ وہ مختلف زبانیں جانتے تھے۔ وہ بلغاریہ اور برٹش گائنا میں ہندوستان کے سفیر تھے۔ آخر میں وہ ناگا لینڈ اور گوا کے گورنر بنے۔ اس کے علاوہ اور بہت سے عہدوں پر فائز ہوئے۔ ڈاکٹر گوپال سنگھ نے اپنی موت سے صرف چند دن پہلے ایک مضمون لکھا تھا۔ اس مضمون میں انھوں نے اپنے وہ تلخ تجربات لکھے ہیں جو انھیں بطور گورنر حاصل ہوئے۔ ان کا یہ مضمون ہندوستان ٹائمز (۱۲ اگست ۱۹۹۰) میں ذیل کے عنوان کے تحت شائع ہوا ہے :

An ex-Governor speaks out

مثال کے طور پر انھوں نے لکھا ہے کہ مجھے ناگا لینڈ میں گورنر کی حیثیت سے بھیجا گیا۔ ناگا لینڈ میں ۹۰ فی صد عیسائی ہیں۔ وہاں ترقیاتی کام رکا ہوا تھا، میں نے بہت سے کام شروع کرائے بجلی کی فراہمی کا انتظام کیا۔ پیپر مل بنوائی جس پر ۸ کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ شوگر مل کو ترقی دی۔ ایک نئی یونی ورسٹی قائم کی۔ وہ لکھتے ہیں کہ میں ریاست کی ترقی کے لیے محنت کرنے میں لگا ہوا تھا۔ مگر میں اپنے عہدہ کی مدت پوری کرنے سے پہلے عہدہ سے واپس بلا لیا گیا : But, I was recalled, before time!

ڈاکٹر گوپال سنگھ گورنری کے عہدہ سے واپس بلائے جانے کی شکایت تحریر کر رہے تھے، مگر انھیں معلوم نہ تھا کہ اس کے صرف چند دن بعد وہ خود موجودہ دنیا سے واپس بلائے جانے والے ہیں۔ کیسا عجیب ہے انسان کا یہ معاملہ ۔ وہ ایک " واپسی " کو جانتا ہے، مگر دوسری زیادہ بڑی واپسی کی اس کو خبر نہیں۔

ہر انسان جو دنیا میں آیا ہے وہ ایک دن یہاں سے واپس جانے والا ہے۔ آدمی اس دنیا میں اسی لیے پیدا ہوتا ہے کہ وہ مرکر دوبارہ یہاں سے چلا جائے ۔ وہ عالم آخرت میں اپنے قول و عمل کا حساب دینے کے لیے حاضر کر دیا جائے۔ یہی کسی آدمی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، مگر یہی وہ مسئلہ ہے جس کے لیے کوئی آدمی فکر مند نہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1990 All issues

Printed page