Al-Risala · November 1990 · page 7

معنی زندگی

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۰، صفحہ ۷

معنی زندگی

ڈاکٹر جارودی (Roger Garaudy) فرانس میں ۱۹۱۳ء میں پیدا ہوئے ۔ وہ عیسائی خاندان سے تعلق رکھتے تھے ، ۱۹۳۳ء کے مشہور اقتصادی بحران نے ان کے ذہن پر اثر ڈالا ۔ وہ فرانس کی کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہوگئے ، تاہم ان کو ذہنی اطمینان نہ مروجہ مسیحیت میں ملا اور نہ کمیونزم میں ۔ بعد کو انھوں نے اسلام کا مطالعہ کیا اور ۱۹۸۲ء میں اسلام قبول کر لیا ۔ ڈاکٹر جارودی کو ۱۹۸۶ء میں شاہ فیصل فاؤنڈیشن کے تحت خدمتِ اسلام کا نصف ایوارڈ دیا گیا ۔ اس موقع پر ریاض میں ایک تقریب ہوئی جس میں ڈاکٹر جارودی نے اپنے حالات کے بارہ میں مفصل تقریر کی ۔ یہ تقریر انھوں نے فرانسیسی زبان میں کی تھی ۔ اس کا مکمل عربی ترجمہ سعودی اخبار الرياض ( ۲ رجب ۱۴۰۶ ھ ، ۱۲ مارچ ۱۹۸۶ء) میں شائع ہوا۔ ڈاکٹر جارودی کا ذہن جب کمیونزم سے ہٹا اور وہ مذہب کی جانب مائل ہوئے تو ابتدا ان کا میلان مسیحیت کی طرف ہوا ۔ اس کے بعد انھوں نے باقاعدہ طور پر اسلام قبول کر لیا ۔ اسلام میں انھوں نے اپنے پورے ذہنی اطمینان کو پالیا ۔ الحاد سے اسلام کی طرف اپنے اس سفر کو بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میں نے ایسا اس لیے کیا تا کہ کر کے گارڈ (Kierkegaard) کے الفاظ میں ، اپنی زندگی کو با معنی بنا سکوں (حتی اعطی لحیاتی معنی) زندگی میں معنویت کی تلاش ایک فطری جذبہ ہے ۔ وہ ہر آدمی کے اندر لازمی طور پر اور پیدائشی طور پر پایا جاتا ہے ۔ اپنی اس اندرونی تلاش کا جواب پانے کے لیے وہ ہر طرف دوڑتا ہے ۔ مگر دوسری تمام چیزوں میں اس کا جواب یا تو سرے سے موجود نہیں ہے یا اگر ہے تو جزئی طور پر ہے ۔ اس لیے دوسری چیزوں میں انسان کو یہ تسکین نہیں ملتی کہ اس نے اپنی تلاش کا صحیح اور کامل جواب پا لیا ہے ۔

اس تلاش کا صحیح اور مکمل جواب صرف خدا کے محفوظ دین ـ اسلام میں موجود ہے ۔ اسلام کی یہ امتیازی صفت اس کی دعوتی کامیابی کی سب سے بڑی ضمانت ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1990 All issues

Printed page