Al-Risala · November 1990 · page 8

موت کے آگے

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۰، صفحہ ۸

موت کے آگے

ایم ایس او برائے ہندوستان میں ہوٹل کے بزنس میں سب سے ممتاز شخص گنے جاتے ہیں۔ وہ ایک "ہوٹل ایمپائر" کے مالک ہیں اور نہ صرف ہندوستان کے مختلف شہروں میں ان کے ہوٹل قائم ہیں، بلکہ بیرونی دنیا میں بھی ان کے بڑے بڑے ہوٹل چل رہے ہیں۔ مسٹر اوبرائے ۱۵ اگست ۱۹۰۰ء کو پیدا ہوئے۔ اب ۹۰ سال کی عمر کو پہنچ کر وہ دہلی کے قریب ایک فارم میں سادہ طور پر رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میرا فارم میری پناہ گاہ ہے، وہ مجھ کو سکون دیتا ہے : My farm is my refuge and gives me solace. ٹائمس آف انڈیا کے سنڈے ایڈیشن (۱۲ اگست ۱۹۹۰ء) میں اپنی زندگی کی کہانی بتاتے ہوئے اس کو انھوں نے ان الفاظ پر ختم کیا ہے ۔ ۔۔۔۔ اپنی زندگی کی شام کو پہنچ کر مجھے کوئی افسوس نہیں۔ یہ جان کر مجھے راحت ملتی ہے کہ اپنے طریقہ کے مطابق ، میں اس قابل ہوسکا کہ ضرورت مند لوگوں کی مدد کروں ، اور یہ کہ جو کچھ میں نے حاصل کیا وہ میرے ملک کی عزت میں اضافہ کا سبب بھی بنا۔ اس سے زیادہ کوئی شخص اور کیا تمنا کر سکتا ہے : In the evening of life, I have few regrets and there is comfort in knowing that I have been able to, in my humble way, help people in need and that whatever I have achieved has also helped to raise the prestige of my country. What more could any man have wished for? ان الفاظ کو پڑھتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ ایک شخص جو ملک کے لیے جئے، وہ اپنی آخر عمر میں پہنچ کر یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ جس کے لیے جیا اس کو وہ اپنے پیچھے چھوڑ رہا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص خدا کے لیے جئے ، اس کا احساس آخر عمر میں یہ ہوگا کہ وہ جس ہستی کے لیے جیا، وہ ہستی اس کے آگے ہے ۔ پہلے شخص کو موت کے آگے صرف خلا نظر آئے گا، اور دوسرے شخص کو موت کے آگے امید سے بھری ہوئی ایک پوری دنیا دکھائی دے گی ۔

پھر کیوں نہ آدمی خدا کے لیے جئے ۔ کیوں وہ غیر خدا کے لیے جئے جس کا آخری انجام صرف مایوسی اور ناامیدی ہے ، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1990 All issues

Printed page