Al-Risala · December 1990 · page 24

خاتونِ اسلام از: مولاناوحیدالدین خاں

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۲۴

غلط فہمی

گرم علاقوں میں ایک خاص قسم کا پتنگا پایا جاتا ہے۔ اس کو عام طور پر عبادت گز ار مینٹس (preying mantis) کہا جاتا ہے۔ زیادہ صحیح طور پر اس کا نام شکاری مینٹس (preying mantis) ہونا چاہئے۔ کیونکہ وہ کیڑوں مکوڑوں کا شکار کرکے ان سے اپنی غذا حاصل کرتا ہے۔ مینٹس کی دنیا بھر میں ایک ہزار قسمیں دریافت کی گئی ہیں۔ وہ ایک انچ سے سات انچ تک لمبا ہوتا ہے۔ اپنے ماحول کے اعتبار سے اس کے رنگ مختلف ہوتے ہیں۔ مثلاً بھورا ، لال اور ہرا۔ ایک واقعہ ہے کہ ایک شخص نے اپنے گھر کے پاس کھلی زمین میں اپنا کچن گارڈن (kitchen garden) بنایا۔ چھوٹی چھوٹی کیاریوں میں دھنیا ، مرچا ، بینگن ، ٹماٹر وغیرہ کی کاشت کی۔ جب پودے بڑھے اور خوب سر سبز ہو گئے تو ایک روز اس نے دیکھا کہ اس کی کیاری کے اندر بڑے بڑے دو ہرے رنگ کے کیڑے موجود ہیں۔ اس کو اندیشہ ہوا کہ یہ میری سبزیوں کو کھائیں گے اور ان کو نقصان پہنچائیں گے۔ اس نے فوراً ان دونوں کیڑوں کو پکڑا ! ! اور انھیں مار ڈالا۔

شام کو اس کا ایک دوست اس سے ملنے کے لئے آیا۔ وہ مقامی کالج میں علم نباتات (botany) کا استاد تھا۔ اس نے اپنے دوست سے فاتحانہ انداز میں کہا کہ آج میرے کچن گارڈن میں دو بڑے کیڑے آگئے ۔ وہ میری سبزیوں کو کھانا چاہتے تھے۔ مگر اس سے پہلے کہ وہ میری سبزیوں کو نقصان پہنچائیں، میں نے انھیں مار کر ختم کر دیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1990 All issues

Printed page