Al-Risala · December 1990 · page 25

خاتونِ اسلام از: مولاناوحیدالدین خاں

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۲۵

اس واقعہ کو اس نے کچھ ایسے انداز سے بیان کیا کہ دوست کو خیال آیا کہ وہ نئے کیڑے کون سے تھے ۔ اس نے پوچھا کہ وہ مرے ہوئے کیڑے کیا اب بھی موجود ہیں کہ میں انہیں دیکھوں ۔ اس کے بعد آدمی نے اپنے دوست کو دونوں کیڑے دکھائے ۔ دوست نے کہا کہ تم نے تو بڑی نادانی کی ۔ تم جانتے نہیں ، یہ تو مینٹس ہے ، اور منٹس سبزی خور کیڑا (herbivorous) نہیں ، وہ تو سلہ طور پر ایک گوشت خور کیڑا ۔ (carnivorous) ہے ۔ وہ یہاں قدرت کی طرف سے تمہاری مدد کے لئے آیا تھا ۔ اس کی فطرت کے خلاف تھا کہ وہ کسی سبزی کو کھائے ۔ وہ تمہاری سبزیوں کو ذرا بھی نقصان نہ پہنچاتا ۔ وہ صرف ان کیڑوں کو کھاتا جو سبزیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں ، اور جن کو ختم کرنا تمہارے لئے سخت مشکل ہے ۔ تم بھی کیسے نادان نکلے کہ تم اپنے فائدہ اور نقصان کو نہ سمجھ سکے ۔ تم نے اپنے ایک قیمتی چوکیدار کو مار ڈالا ۔ دوست کی زبان سے یہ الفاظ سنتے ہی آدمی کی زبان بند ہوگئی ۔ اس کو اپنے کئے پر بے حد افسوس ہوا ۔ یہاں تک کہ وہ بیمار پڑ گیا اور کئی دن تک کام کرنے کے قابل نہ رہا ۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ غلط فہمی کسی آدمی کو کتنی بڑی بڑی کوتاہیوں میں مبتلا کر سکتی ہے ۔ حتیٰ کہ یہ بھی ممکن ہے کہ ایک شخص شدید غلط فہمی میں پڑ کر دوسرے شخص کی جان مار ڈالے ، حالاں کہ یہ دوسرا شخص بالکل بے قصور ہو ۔ وہ ایک آدمی کو بے عزت کرنے پر تل جائے ، حالاں کہ اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے وہ ایسا آدمی ہو کہ اس کے ساتھ نہایت عزت و احترام کا سلوک کیا جائے ۔ اسی لئے شریعت میں یہ حکم ہے کہ رائے قائم کرنے یا کسی کے خلاف اقدام کرنے سے پہلے اس کے معاملہ کی پوری تحقیق کرو ۔ ایسا ہر گز مت کرو کہ کسی کے خلاف ایک خبر سنو اور فوراً اس کو مان لو ، اور اس کے خلاف ایک بُرا اقدام کر بیٹھو ۔ عین ممکن ہے کہ تحقیق کے بعد تم کو معلوم ہو کہ جو خبر تم کو پہنچی تھی ، وہ خبر سراسر غلط اور بے بنیاد تھی :

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس ایک خبر لائے تو تم اس خبر کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانی سے کوئی نقصان پہنچا دو ، پھر تم کو اپنے کئے پر پچھتانا پڑے (الحجرات ۶)

غلط خبر کو سن کر اس کے انجام سے بچنے کی تدبیر نہایت آسان ہے ۔ وہ یہ کہ کسی بات کو سننے کے بعد اس وقت تک اسے نہ مانا جائے جب تک براہ راست ذرائع سے اس کی تحقیق نہ کرلی جائے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1990 All issues

Printed page