Al-Risala · December 1990 · page 31

My faith was in the crew.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۳۱

کے لئے کھانے کا سامان ہے، اور یہ آپ کے اوڑھنے کے لئے کمبل ہے۔

میں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ رات گزرنے کے بعد اگلی صبح کو یہ مل میں کس کو واپس کروں ۔ انھوں نے کہا کہ اس کو واپس کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ آپ ہی کا ہے۔ یہ پوری گفتگو انگریزی زبان میں ہوئی۔

پھیلے ہوئے لاؤنج میں ہر قسم کی عمدہ کرسیاں سیکڑوں کی تعداد میں تھیں۔ بیٹھنے کے لئے بھی اور سونے کے لئے بھی۔ رات نہایت آرام اور سکون کے ساتھ گزری۔

اس واقعہ کے بعد مجھے ایک صاحب کا قصہ یاد آیا جو انھوں نے مجھے بتایا تھا۔ میں ہندوستان کے ایک مشہور اسلامی ادارہ میں تین سال تک رہا ہوں۔ 1966 میں جب کہ میں اپنے وطن گیا ہوا تھا، وہ مجھ سے ملنے کے لئے مذکورہ ادارہ میں آئے۔ جب انھیں معلوم ہوا کہ اس وقت میں یہاں موجود نہیں ہوں تو انھوں نے سوچا کہ اب کیا کرنا چاہئے ۔ یہ مغرب بعد کا وقت تھا۔ انھوں نے طے کیا کہ رات وہاں کی مسجد میں گزار لیں اور صبح کو واپس چلے جائیں۔ چنانچہ عشاء کی نماز کے بعد وہ مسجد میں ایک طرف لیٹ گئے۔

کچھ دیر کے بعد ادارہ کا چوکی دار آیا۔ اس نے کہا کہ مسجد میں سونا منع ہے، اس لئے آپ یہاں نہیں سو سکتے۔ انھوں نے کہا کہ اچھا، میں بیٹھ کر رات گزار لوں گا۔ چنانچہ وہ دیوار کی ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ کچھ دیر کے بعد چوکی دار دوبارہ آیا۔ اس نے کہا کہ آپ مسجد میں بیٹھ کر بھی نہیں رہ سکتے۔ اس لئے آپ باہر جائیں۔ وہ باہر نکل کر ایک چبوترہ پر لیٹ گئے ۔ چوکی دار پھر آیا۔ اس نے کہا کہ اجنبی آدمی کو ادارہ کے اندر ٹھہرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس لئے آپ یہاں سے چلے جائیں۔ انھوں نے چوکی دار سے کہا کہ تم مجھ کو یہاں کے ذمہ دار کے پاس لے چلو، میں ان سے بات کروں گا۔ اس کے بعد چوکی دار انھیں ایک کمرہ میں لے گیا۔ یہاں ادارہ کے اساتذہ رات کی چائے پی رہے تھے۔ وہ دروازہ پر کھڑے ہو گئے ۔ نہ کسی نے ان کو بیٹھنے کے لئے کہا اور نہ چائے کی پیش کش کی۔ دروازہ پر کھڑے کھڑے انھیں حکم دے دیا گیا کہ آپ اس طرح ادارہ کے اندر رات نہیں گزار سکتے۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما مغرب کی جو تصویر پیش کرتے ہیں اس کے مطابق، مغرب کی برتری کاراز اس کی ”دسیہ کاری “ ہے۔ اس نے سازشی تدبیروں کے ذریعہ دنیا کے اوپر اپنا غلبہ قائم

‹ Previous page Next page › Contents of December 1990 All issues

Printed page