Al-Risala · December 1990 · page 43

محتسب اقوام یا خیر خواہ اقوام

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۴۳

ہم سب روزے سے تھے ٹرین کی روانگی کے صرف پانچ سات منٹ کے بعد افطار کا وقت ہونے والا تھا۔ ایک دوست جو ہم لوگوں کو صرف رخصت کرنے اسٹیشن آئے تھے، میں نے ان سے کہا کہ اگر اسٹیشن پر برف مل جائے تو ایک سیر آپ لا دیجئے ۔ وہ دوست برف تلاش کرنے کے لئے چلے گئے۔ ہمارے وہ مہربان پنڈت جی بھی خاموشی کے ساتھ ڈبے سے اترے۔ ہمارے جو دوست برف تلاش کرنے کے لئے گئے تھے وہ ابھی واپس نہ آئے تھے کہ پنڈت جی پانچ سیر برف کہیں سے خرید لائے اور خاموشی کے ساتھ میرے سامنے رکھ دیا۔ میں نے سر اٹھا کر ان کی طرف دیکھا تو ان کی آنکھ میں شرافت کی چمک اور ندامت کے آنسو تھے۔ انھوں نے اصرار کیا کہ قبول کر لو۔ میں نے کہا کہ سر آنکھوں پر، لیکن یہ بہت زیادہ ہے۔ آپ اس کی قیمت لے لیں مگر وہ کسی طرح راضی نہ ہوئے۔ بالآخر میں نے قبول کر لیا۔ اب ٹرین لکھنو سے روانہ ہو گئی۔ میں پنڈت جی سے ذرا فاصلے پر اپنے ساتھیوں کے پاس بیٹھ گیا۔

پنڈت جی خود اٹھ کر آئے اور مجھ سے کہا کہ بہت غلطی ہوئی ، آپ وہاں بیٹھے جہاں پہلے بیٹھے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ میں آرام سے بیٹھا ہوں آپ بلا تکلف اپنی جگہ بیٹھیں ۔ وہ اس پر راضی نہیں ہوئے اور کہا کہ اگر آپ وہاں چل کر نہیں بیٹھیں گے تو میں بھی نہیں بیٹھوں گا ۔ بالآخر میں اسی جگہ جا کر بیٹھ گیا۔ اس کے بعد جب آفتاب غروب ہو گیا تو ہم لوگوں نے روزہ افطار کیا اور ٹرین ہی میں مغرب کی نماز با جماعت پڑھی ۔ پنڈت جی ادب کے ساتھ نماز ختم ہونے تک کھڑے رہے، اپنی جگہ پر بیٹھے بھی نہیں۔ سلام پھیرنے کے بعد جب انھیں اس حالت میں دیکھا تو اصرار کر کے بیٹھا یا پھر بھی وہ اس وقت تک ادب سے بیٹھے رہے جب تک ہم سنتوں اور نفلوں سے فارغ ہوئے۔ اس کے بعد ہم لوگوں نے کھانا کھایا۔ پھر کچھ دیر کے بعد عشاء کا وقت آگیا ہم لوگوں نے جماعت سے عشاء کی نماز اور جماعت ہی سے تراویح بیس رکعت پڑھی۔ اس پورے وقت میں پنڈت جی اس ادب سے بیٹھے رہے گو یا وہ بھی دل سے ہمارے ساتھ نماز میں شریک رہے۔ ڈبے میں اتنی جگہ نہ تھی کہ ہم میں سے کوئی شمش سو سکے اور اوپر والی سیٹوں پر ان حضرات کے بستر لگے ہوئے تھے جو پہلے سے اس ٹرین پر سفر کر رہے تھے۔ ان میں نے ایک بستر پنڈت جی کا بھی تھا۔ ان کے علاوہ جن لوگوں کے بستر تھے سب جا کر لیٹ گئے۔ پنڈت جی نے اوپر کے ایک بستر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بستر میرا ہے اس پر آپ آرام کر لیں، میں نے کہا کہ پنڈت جی یہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اپنے بستر پر آپ خود آرام کریں گے۔ پنڈت جی نے کہا یا تو اس پر آپ سوئیں گے ورنہ میں بھی نہیں سوؤں گا اور یہ رات بھر خالی پڑا

‹ Previous page Next page › Contents of December 1990 All issues

Printed page