صفحات ۱۷۰ ۳۰ روپیہ
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۴۴
رہے گا۔ جب میں نے پنڈت جی کا اصرار دیکھا اور اندازہ کر لیا کہ واقعتا وہ ایسا ہی کریں گے تو میں نے کہا کہ آپ مجھے اختیار دے دیجئے، خواہ میں خود سوؤں یا کسی دوسرے کو سلاؤں تو انھوں نے مجھے اختیار دے دیا۔
ہمارے ساتھیوں میں ایک بھائی نصیر الدین تھے جن کی صحت ایسی ڈسٹرب کی وجہ سے بہت خراب ہو گئی تھی گو یا ہمیشہ مریض ہی رہتے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ بھائی نصیر تم سو جاؤ۔ پہلے انھوں نے معذرت کی پھر میں نے ان سے کہا کہ اچھا میں امیر قافلہ کی حیثیت سے آپ کو حکم دیتا ہوں کہ آپ اس پر سو جائیں۔ چنانچہ وہی سوئے۔
مراد آباد میں ہمیں ٹرین تبدیل کرنی تھی۔ رات کے دو بجے کے قریب جب مراد آباد آیا تو ہم لوگوں کو پنڈت جی نے اس طرح رخصت کیا جس طرح وہ اپنے عزیز ترین رشتہ داروں یا دوستوں کو رخصت کرتے۔ میرے دل پر آج تک پنڈت جی کے رویہ کا گہرا اثر ہے۔
قرآن مجید کی جس ہدایت و تعلیم کا اوپر حوالہ دیا گیا ہے اگر اس پر عمل کرنے کی توفیق قرآن والوں کو ہو جائے تو روز ایسے ہی تجربے ہوں اور دین و دنیا کے کتنے ہی بند دروازے ہمارے لئے کھل جائیں ۔ (ہفت روزہ الجمعیۃ ۲۶ جولائی ۱۹۹۰)
نئی کتابیں تجدید دین ( اضافه شده )
صفحات ۸۸ ۱۵ روپیہ عقليات اسلام ( اضافه شده )
صفحات ۱۷۰ ۳۰ روپیہ
‹ Previous page Next page › Contents of December 1990 All issues