Al-Risala · December 1990 · page 46

صفحات ۱۷۰ ۳۰ روپیہ

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۴۶

۶ نواب خاں صاحب (غازی پور) نے بتایا کہ غازی پور نے علاقہ کم سارو بار جس میں تقریباً ۲۰ بستیاں ہیں، وہاں شادی بیاہ میں لوگ بہت اسراف کرتے تھے۔ الر سالہ کا فکر اس علاقہ میں پھیلا۔ اس کے نتیجہ میں وہاں شادی بیاہ کا طریقہ بدل گیا ہے اور بالکل سادہ انداز میں شادیاں ہونے لگی ہیں۔ الرساله سے متاثر لوگ اصلاحی کمیٹی بنا کر یہ کام کر رہے ہیں۔ اسی طرح دوسرے مقامات کے لوگوں کو کرنا چاہئے۔

۷ ملک رام ایم اے ہندوستان کے مشہور دانشور ہیں۔ وہ الرساله بہت پابندی کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ ایک صاحب نے بتایا کہ ایک مجلس میں الرسالہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے انھوں نے کہا: الرسالہ آج کی دنیا میں بہت بڑا کام کر رہا ہے۔ اس نے قوم کی پوری فکر کوری اور رینیٹیٹ (re-orientate) کر دیا ہے۔

۸ دارالسلام (تننزانیہ) کے مدرسة الثقافة الاسلاميّة کے اپنے خط میں لکھا ہے کہ انھیں اسلامی مرکز کا انگریزی الرساله ملا اور وہ انھیں بہت پسند آیا۔ اب انھوں نے درخواست کی ہے کہ ان کے مدرسہ کو ہم اپنی میلنگ لسٹ میں شامل کر لیں اور انھیں اعزازی طور پر انگریزی الرسالہ برابر روانہ کریں ( نطلب منكم ان تدرجو ا المدرسة في قائمة المشتركين في المجلة بالمجان وذالك لقلة امكاناتها المالية)، اس طرح کے خطوط ہمیں ملتے رہتے ہیں۔ مگر مرکز کی طرف سے تمام لوگوں کو اعزازی طور پر الرسالہ بھیجنا ممکن نہیں۔ اگر کچھ لوگ تبلیغی جذبہ کے تحت اپنی طرف سے بدل اشتراک ادا کر کے جاری کرائیں تو مناسب ہوگا۔

۹ مالیگاؤں میں ایک روز نامہ نکلتا ہے۔ اس کا نام " شام نامہ " ہے۔ اس اخبار کے صفحات میں اکثر الرسالہ کے مضامین نقل کئے جاتے ہیں۔ اسی طرح اکثر مقامی اخبار اور رسالے الرسالہ کے مضامین چھاپ رہے ہیں۔

۱۰ جمیل احمد انصاری ( مالیگاؤں ) نے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے ۔ بمبئی میں ایک فرم میں ان کا انٹرویو تھا۔ انٹرویو لینے والے سب کے سب ہندو لوگ تھے ۔ انھوں نے ایک سوال کیا کہ آپ کون سا میگزین پڑھتے ہیں۔ جمیل احمد انصاری صاحب نے کہا کہ "الرسالہ

‹ Previous page Next page › Contents of December 1990 All issues

Printed page