رحمت للعالمين
الرسالہ، فروری ۱۹۹۰، صفحہ ۲۵
رحمت للعالمين
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن میں رحمتہ للعالمین (سارے عالم کے لئے رحمت) کہا گیا ہے۔ اسی بات کو خواجہ الطاف حسین حالی نے اپنی مسدس میں اس طرح نظم کیا ہے: وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا پیغمبر اسلام رحمت کا اعلیٰ ترین نمونہ تھے۔ ایک مورخ کے الفاظ میں، رحمت آپ کی شخصیت کو سمجھنے کی کنجی ہے۔ آپ کا تمام قول اور تمام عمل جس بنیادی اصول کے ماتحت ہوتا تھا وہ یہی رحمت کا پہلو ہے۔ آپ وہی بات بولتے تھے جس میں انسانوں کے لئے رحمت کا سامان ہو۔ آپ اسی طریقہ کو اپنی عملی زندگی میں اختیار کرتے تھے جو انسانی معاشرہ میں رحمت والا نتیجہ پیدا کرے۔ آپ جس دین کو لائے اس کی بابت قرآن میں یہ الفاظ ہیں کہ اللہ اس دین کے ذریعہ لوگوں کو سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے۔ اسی لئے آپ کے لائے ہوئے دین کا نام اسلام قرار پایا جس میں سلامتی کا مفہوم شامل ہے۔ آپ مکمل سلامتی تھے اور آپ نے لوگوں کو سلامتی کی طرف دعوت دی۔ آپ نے انسان کو جس جنت کا طالب بننے کی دعوت دی، اس کی تصویر قرآن میں یہ ہے کہ اس میں کوئی لغو بات یا گناہ کی بات نہ ہوگی۔ وہاں ہر طرف صرف سلامتی کا قول سنائی دے گا۔ اس طرح آپ نے لوگوں کو بتایا کہ اگر تم موت کے بعد والی دنیا میں جنت کے ماحول میں رہنا چاہتے ہو تو موت سے پہلے کی زندگی میں تم کو لغو باتوں اور گناہ والے کاموں سے بچنا ہوگا۔ تم کو دنیا کے لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ تمہارے دل میں لوگوں کے لئے سلامتی اور خیر خواہی کے سوا اور کچھ نہیں۔ اگر تم نے اپنے بارہ میں اس اخلاقی صفت کا حامل ہونے کا ثبوت نہیں دیا تو تم جنت کی نفیس آبادیوں میں بسائے جانے کے لئے نااہل ٹھہرو گے۔
آپ نے انسان کو یہ تعلیم دی کہ جب ایک آدمی دوسرے آدمی سے ملے تو وہ اس سے کہے: السلام علیکم ورحمۃ اللہ (تمہارے اوپر اللہ کی رحمت اور سلامتی ہو)، یہ صرف ایک لفظی کلمہ نہیں، بلکہ یہ دوسرے کے بارہ میں اپنے دل کی کیفیت کا اظہار ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کہنے والا یہ کہہ رہا ہے کہ تمہارے لئے میرے دل میں صرف سلامتی کا جذبہ ہے۔ میں تمہارا اتنا زیادہ خیر خواہ ہوں کہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 1990 All issues