رحمت للعالمين
الرسالہ، فروری ۱۹۹۰، صفحہ ۲۶
میرے دل سے تمہارے لئے امن و عافیت کی دعائیں نکلتی ہیں۔ مجھ سے تم کوئی اندیشہ محسوس نہ کرو، بلکہ میری طرف سے مامون رہو۔ کیوں کہ مجھ سے تم کو سلامتی اور رحمت کے سوا کوئی اور تجربہ ہونے والا نہیں۔
آپ نے لوگوں کو تلقین کی کہ ہر شخص دوسروں کے لئے نفع بخش بننے کی کوشش کرے، اگر وہ نفع بخش نہ بن سکے تو وہ اس کے حق میں اچھی بات کہے۔ اگر یہ بھی اس کے بس میں نہ ہو تو وہ کم از کم یہ کرے کہ وہ اپنے شر سے دوسروں کو بچائے۔ آپ نے راستہ سے پتھر یا کانٹا ہٹانے کو بھی ایمان کا جزو قرار دیا۔
آپ نے اپنے پیروؤں کے لئے جو عبادتی احکام مقرر کئے، ان میں سے ایک زکواۃ ہے۔ زکواۃ کا مطلب یہ ہے کہ اپنی کمائی کا ایک حصہ ہر سال دوسرے حاجت مندوں کو دیا جائے۔ یہ گویا مال کے ذریعہ اس بات کی تصدیق کرنا ہے کہ میں سنجیدگی کی حد تک دوسروں کا خیر خواہ ہوں۔ انسانی اخلاقیات کی بنیاد آپ نے جس اصول پر رکھی وہ یہ تھا کہ ــــــــــ دوسروں کے لئے بھی وہی پسند کرو جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو۔ یہ اصول پوری سماجی زندگی کے لئے رحمت ہے۔ ہر آدمی کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہوتی ہے کہ اس کو کیا چیز پسند ہے اور کیا چیز ناپسند۔ مثلاً ہر آدمی چاہتا ہے کہ مجھ سے محبت کی جائے، مجھ سے نفرت نہ کی جائے۔ ہر آدمی چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ امانت داری کا معاملہ کیا جائے، اس کے ساتھ دغا بازی کا معاملہ نہ کیا جائے۔ ہر آدمی کو پسند ہے کہ لوگ اس سے میٹھا بول بولیں، کڑوا بول نہ بولیں۔ بس پسند اور ناپسند کا یہی معاملہ ہر آدمی دوسرے کے ساتھ بھی کرنے لگے۔ اگر ہر آدمی ایسا کرے کہ دوسروں کے ساتھ وہ وہی سلوک کرے جو سلوک وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے تو سارا سماج امن اور سلامتی کا گہوارہ بن جائے۔
آپ نے لوگوں کو جن باتوں کی تعلیم دی، ان میں سے ایک اہم تعلیم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص تمہارے ساتھ برا سلوک کرے، تب بھی تم اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ تم لوگوں کے ساتھ برابر کا اخلاق نہ برتو بلکہ بر تر اخلاق کا طریقہ اختیار کرو۔ دوسروں کے ساتھ تمہارابرتاؤ ان کے عمل کے رد عمل میں نہ ہو، بلکہ خود اپنے اعلیٰ اصولوں کی روشنی میں ہو۔
اس تعلیم میں بہت بڑی حکمت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں کامیابی کا یہی واحد راز
‹ Previous page Next page › Contents of February 1990 All issues