رحمت للعالمين
الرسالہ، فروری ۱۹۹۰، صفحہ ۲۷
ہے۔ یہاں دوسروں کی طرف سے بدی کا تجربہ پیش آنے کے باوجود ان کے ساتھ نیک سلوک کرنا پڑتا ہے۔ جو لوگ ”باوجود“ کے اس اصول کو نہ مانیں وہ اس دنیا میں کبھی کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے، وہ کبھی اس اعلیٰ اخلاقی رویہ پر قائم نہیں رہ سکتے، جس کا انھوں نے اپنی زبان سے اقرار کیا تھا۔
موجودہ دنیا ایک ایسی دنیا ہے جہاں ہر آدمی آزاد ہے۔ ہر آدمی کو کھلا موقع حاصل ہے کہ وہ جو چاہے کرے۔ اس صورت حال کا یہ نتیجہ ہے کہ اس دنیا میں ایسا نہیں ہو سکتا کہ تمام لوگ ایک جیسے ہو جائیں۔ ایسی یکسانیت پتھر کے بنے ہوئے مجسموں میں ہو سکتی ہے مگر زندہ انسانوں میں ایسی یکسانیت ممکن نہیں۔
اس بنا پر بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان ٹکراؤ ہوتا ہے ایک کو دوسرے سے شکایت ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں اگر لوگوں کا نظریہ یہ ہو کہ جو شخص ہم سے اچھا سلوک کرے، اس کے ساتھ ہم اچھا سلوک کریں گے، اور جو شخص ہم سے برا سلوک کرے، اس کے ساتھ ہم بھی برا سلوک کریں گے۔ اگر یہ نظریہ ہو تو سماجی زندگی میں کبھی امن و سلامتی کا ماحول قائم نہیں ہو سکتا۔ اس لئے آپ نے کہا کہ لوگوں کی برائی کے باوجود تم ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ دوسروں سے تم کو ظلم کا تجربہ ہو تب بھی تم ان کے ساتھ ظلم نہ کرو۔
اس اخلاق کو قرآن میں خلق عظیم (برتر اخلاق) کہا گیا ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے حالات بتاتے ہیں کہ آپ اس برتر اخلاق کا کامل نمونہ تھے۔
اس برتر اخلاق پر قائم ہو نا کوئی آسان کام نہیں۔ اس کے لئے ایک برتر مقصد کا ہونا ضروری ہے آپ نے لوگوں کو ایک انتہائی اعلیٰ اور پاکیزہ مقصد دیا ، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ جن لوگوں کے دل میں یہ برتر مقصد پوری طرح بیٹھ جائے وہ اسی کے ساتھ ضرور اعلیٰ اخلاق والے بن جائیں گے۔ یہ برتر مقصد خدا کی معرفت ہے۔ اپنے آپ کو خدا تک پہنچانا ہے۔ اپنے آپ کو خدا کے قریب کرنا ہے۔ جو لوگ اس مقصد کی اہمیت کو سمجھیں اور صحیح معنوں میں اللہ کے طالب بن جائیں، ان کی نظروں ہر دوسری چیز ہیچ ہو جائے گی۔ کڑوے بول کو سہنا، نقصان کو برداشت کرنا، وقار کھو نے کو گوارا کر لینا،
‹ Previous page Next page › Contents of February 1990 All issues