Al-Risala · February 1990 · page 28

رحمت للعالمين

الرسالہ، فروری ۱۹۹۰، صفحہ ۲۸

اور اونچی سطح پر جئے وہ کبھی چھوٹی باتوں کی پروا نہیں کرتا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رحمۃ للعالمین ہونے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ معلوم تاریخ میں پہلی بار آپ نے جنگ اور صلح کا صحیح انسانی اصول مقرر کیا اور اس پر خود عمل فرمایا۔ آپ نے جارحانہ جنگ کو مطلق طور پر ممنوع قرار دیا۔ آپ نے بتایا کہ جنگ صرف اس وقت کی جائے جب کہ دفاعی طور پر جنگ لڑنے کی ضرورت پیش آجائے۔ یعنی اپنی طرف سے کبھی جنگ میں پہل نہ کی جائے۔ البتہ اگر دوسرا فریق جارحیت کر دے تو اس سے بچاؤ کے لئے لڑا جاسکتا ہے۔ دوسرا ضروری اصول آپ نے یہ مقرر کیا کہ جنگ کے مقابلہ میں امن ہر حال میں بہتر اور مطلوب چیز ہے۔ اس لئے جنگ پیش آجانے کی صورت میں بھی مسلسل امن کی تلاش جاری رکھی جائے۔ اور اگر فریق ثانی صلح پر آمادہ ہو تو فوراً جنگ کو ختم کرکے اس سے صلح کر لی جائے ، خواہ یہ صلح خود فریق ثانی کی یک طرفہ شرط پر کیوں نہ ہو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان تمام اصولوں کے نہ صرف داعی تھے بلکہ وہ ان کے عامل بھی تھے۔ آپ نے ان تمام اصولوں پر انتہائی اعلیٰ اور معیاری صورت میں عمل فرمایا ، حتی کہ آپ کی زندگی ہمیشہ کے لئے ان تمام اصولوں کا معیاری عملی نمونہ قرار پائی۔ آپ کا کلام بھی سراسر رحمت تھا اور آپ کی زندگی بھی سراسر رحمت۔

الرساله کیسٹ نمبر ۱ ایمان نمبر ۵ تعمیر ملت نمبر ۲ اسلامی دعوت کے جدید امکانات نمبر ۶ سنت رسول نمبر ۳ اسلامی اخلاق نمبر ۷ میدان عمل نمبر ۴ اتحاد نمبر ۸ پیغمبرانہ رہنمائی (زیر تیاری)

(ہدیہ فی کیسٹ ۲۵ روپیہ)

‹ Previous page Next page › Contents of February 1990 All issues

Printed page