Al-Risala · February 1990 · page 40

The great man-river builder.

الرسالہ، فروری ۱۹۹۰، صفحہ ۴۰

وگرام نہیں ۔ گہری تعمیر کے کام میں لوگوں کے شعور کو اتنا ابھارنا پڑتا ہے کہ وہ خود حالات کے اعتبار سے پروگرام کی تخلیق کر سکیں۔ ہمارا پر پروگرام یہ ہے کہ ہم پروگرام ساز انسان تیار کریں (رہنما سمجھنا هو اعداد المبرمجين)

ایک مجلس میں میں نے اپنی "غیر عرب عربی" پر معذرت کی۔ ایک تعلیم یافتہ عرب نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ آپ کی عربی، زبان کے اعتبار سے، عربوں جیسی نہیں ہوتی۔ مگر وہ ہم کو زیادہ سمجھ میں آتی ہے۔ کیوں کہ وہ محدد زبان (Precise language) میں ہوتی ہے۔ جب کہ عام بولنے والوں کا فہم ان کی خطابت اور الفاظ کی کثرت میں گم ہو جاتا ہے۔ آدمی ان کی لمبی چوڑی تقریر سن کر اس حال میں اٹھتا ہے کہ اس کو کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ کہنے والے نے کیا کہا۔

اس سفر میں بہت سے عربوں سے اسلامی دعوت کے بارہ میں گفتگو کرنے کا موقع ملا۔ تعلیم یافتہ عرب نوجوانوں کی ایک مجلس میں تقریبا تین گھنٹہ تک گفتگو رہی۔ گفتگو کا موضوع زیادہ تر موجودہ زمانہ میں دعوت کے مسائل اور حکمت دین تھا۔ اس سلسلہ میں میں نے ایک بار کہا: نصف العلم ان تعرف الفرق والبقية نصفه ان تعرف المماثلة۔ یعنی نصف علم یہ ہے کہ آدمی دو چیزوں کے درمیان فرق کو جانے، علم کا بقیہ نصف یہ ہے کہ آدمی دو چیزوں کے درمیان مشابہت کو جانے۔

لوگوں کے مزید سوالات کے درمیان میں نے اس فقرہ کی تفصیلی وضاحت کی۔ میں نے کہا کہ پہلے "فرق" کو جاننے کے معاملہ کو لیجئے ۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ پچھلے زمانہ میں جو پیغمبر توحید کی دعوت لے کر اٹھے، ان کا اپنے زمانہ کے حکمراںوں سے ٹکراؤ ہو گیا۔ اس بنا پر آج کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ کسی دینی دعوت کے پیغمبرانہ دعوت ہونے کی پہچان یہ ہے کہ وقت کے حکمران طبقہ کے ساتھ فوراً ہی اس کا ٹکراؤ پیش آجائے ۔ اب الرسالة مشن (یا تبلیغی جماعت کا چونکہ حکومت سے ٹکراؤ نہیں ہو رہا ہے اس لئے ان کے نزدیک یہ اس کے غیر پیغمبرانہ نہج پر ہونے کی دلیل ہے۔ یہ غلط فہمی "فرق" کو جاننے کی بنا پر ہے۔ قدیم زمانہ کے بادشاہ اپنا حق حکومت مشرکانہ ) عقائد کے ذریعہ حاصل کرتے تھے۔ چنانچہ توحید کی دعوت انہیں براہ راست اپنی حاکمانہ حیثیت سے ٹکراتی ہوئی نظر آتی تھی، وہ فوراً توحید کی دعوت کو کچلنے کی کوشش کرتے تھے۔ موجودہ زمانہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 1990 All issues

Printed page