The great man-river builder.
الرسالہ، فروری ۱۹۹۰، صفحہ ۴۱
میں جمہوری انقلاب کے نتیجہ میں یہ صورت حال ختم ہو چکی ہے۔ اس بنا پر اب قدیم طرز کے ٹکراؤ کا کوئی سوال نہیں۔ جو لوگ قدیم بادشاہت اور موجودہ حکومت کے فرق کو نہ جانیں وہ اس معاملہ میں صحیح رائے قائم نہیں کر سکتے۔
اب اس مشابہت کے معاملہ کو لیجئے موجودہ زمانہ کے اسلام پسند لوگ سیکولرزم کو اسلام کا دشمن نظریہ سمجھتے ہیں اور غیر ضروری طور پر اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ عین صلح حدیبیہ کے مثل ایک واقعہ ہے۔ حدیبیہ کا واقعہ اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے یہ تھا کہ وقت کے اقتدار نے دس سال کے لئے اپنے آپ کو اس کا پابند کر لیا تھا کہ وہ اسلامی دعوت کے مقابلہ میں عدم مداخلت کی پالیسی پر کار بند رہے گا۔ عین یہی موجودہ زمانے میں سیکولر حکومت کا مطلب بھی ہے۔ موجودہ زمانہ میں جدید افکار کے زیر دنیا کی تمام حکومتوں نے اپنے آپ کو اس کا پابند کیا ہے کہ وہ مذہب کے معاملہ میں عدم مداخلت کا طریقہ اختیار کریں گے۔ اقوام متحدہ کی سطح پر اسی عالمی عہد کا نام "حقوق انسانی کا منشور" ہے۔ یہ صورت حال گویا ابدی صلح حدیبیہ ہے۔ دونوں کے درمیان "حدیبیہ اسپرٹ" مشترک طور پر موجود ہے۔ مگر اس مشابہت کو نہ جاننے کی وجہ سے لوگ اس کے خلاف بھڑک اٹھے۔ ایک مجلس میں کچھ لوگوں نے کہا کہ آپ کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ آپ لوگوں کے اندر غیر جہادی اور غیر انقلابی ذہن بنا رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ بالکل لغو اور سطحی بات ہے۔ ایسا کہنے والوں نے ابھی تک ہمارے مشن کو نہیں سمجھا۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے نام نہاد اسلامی مفکرین نے اپنی سیاسی تعبیر کے ذریعہ دعوت کا نشانہ بدل دیا ہے۔ انھوں نے انقلاب نظام کو اسلامی دعوت کا نشانہ بنا دیا ہے۔ حالاں کہ انقلاب انسان اسلامی دعوت کا نشانہ ہے۔ اسی تعبیری فرق کا یہ نتیجہ ہے کہ ہمارے دعوتی عمل میں "سیاسی انقلاب" بطور نشانہ حذف ہے، دوسری طرف ان کے دعوتی عمل میں "تو جہ الی اللہ بطور نشانہ حذف ہے۔
اب جو لوگ سیاست رخی تعبیر سے مت ہیں، وہ ہمارے معاملہ کو سمجھ نہیں پاتے اور ہمارے اوپر غیر انقلابی ہونے کا الزام دینے لگتے ہیں۔ مگر یہ غلط فہمی قرآن کے زیر اثر تاثر نہیں بنی ہے بلکہ بعض لوگوں کی سیاسی تعبیروں کے زیر اثر تاثر بنی ہے۔ ایسی حالت میں ہمیں ان الزامات سے غیر متاثر
‹ Previous page Next page › Contents of February 1990 All issues