Al-Risala · February 1990 · page 42

The great man-river builder.

الرسالہ، فروری ۱۹۹۰، صفحہ ۴۲

ایک تعلیم یافتہ عرب نوجوان نے کہا کہ میں نے آپ کی تمام عربی کتابیں پڑھی ہیں۔ میں نے پوچھا کہ ان کتابوں کے پڑھنے سے آپ پر کیا اثر ہوا۔ انھوں نے کہا کہ ان کتابوں نے مجھ کو نہایت اونچے مقام تک پہنچا دیا (انها رفعتني الى مقام عظيم)

ایک عرب نوجوان نے کہا کہ میں ایک کمپنی میں کام کرتا ہوں جس میں بڑی تعداد میں غیر مسلم یورپین موجود ہیں۔ میں ان کو آپ کی انگریزی کتابیں پڑھارہا ہوں۔ ایک مسیحی خاتون جو مذکورہ کمپنی میں سکریٹری کے درجہ پر ہیں۔ ان کو " پرافٹ آف ریولیوشن " انھوں نے پڑھنے کے لئے دی۔ اس کو پڑھ کر خاتون نے جو کچھ کہا وہ عرب نوجوان کے الفاظ میں یہ تھا کہ میں نے جو کتابیں پڑھی ہیں، ان میں یہ بہترین کتاب ہے (انه احسن كتاب قرأته)

ایک مجلس میں ایک عرب نوجوان نے دعوت کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ تکمیل اعتبار سے اسلامی دعوت کے چار مراحل ہیں۔ اعلان، ہجرت، جہاد، حکومت ۔ میں نے کہا کہ اسلامی دعوت کی یہ تعبیر صحیح نہیں۔ صحیح تعبیر وہ ہوتی ہے جو دوسرے متعلق حقائق سے نہ ٹکرائے، جب کہ یہ تعبیر دوسری معلوم حقیقتوں سے ٹکرا رہی ہے۔ مثلاً ہمارے عقیدہ کے مطابق، تمام انبیاء کا مل معنوں میں داعی تھے۔ مگر اس تعبیر میں بیشتر انبیاء ناقص داعی قرار پاتے ہیں۔ کیوں کہ ان کی دعوت ان چاروں مراحل سے نہیں گزری۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ خدا نے پیغمبر کی مخاطب امتوں کو جو عذاب دیا وہ عین عدل تھا۔ مگر اس تعبیر میں وہ غیر عادلانہ قرار پاتا ہے۔ کیوں کہ اس کے مطابق بیشتر مثالوں میں خدا نے ان قوموں کو قبل از وقت عذاب دے دیا۔

اصل یہ ہے کہ دعوت تمام تر اعلان ہی کا نام ہے۔ البتہ اعلان کے شرائط ہیں مثلاً مدعو کے لئے خیر خواہ ہونا، اس کی ایذاء پر صبر کرنا، اس کی سرکشی کے باوجود مسلسل اس کو پکارتے رہنا۔ اس کی اپنی لغت میں دعوت کو اس کے لئے قابل فہم بنانا، مدعو سے اجر دنیوی کا طالب نہ ہونا وغیرہ۔ اسی کا نام دعوت ہے۔ اس کے بعد ہجرت یا جہاد، یا قتال یا حکومت جیسے واقعات جو کبھی پیش آتے ہیں اور کبھی پیش نہیں آتے، وہ سب تاریخ کے مراحل ہیں نہ کہ دعوت کے مراحل۔ ایک مجلس میں موجودہ زمانہ کی اسلامی تحریکوں کا ذکر آیا۔ پھر یہ سوال ہوا کہ یہ تمام تحریکیں اپنے

‹ Previous page Next page › Contents of February 1990 All issues

Printed page